لاہور(روشن پاکستان نیوز) لاہور کے بعض تھیٹرز میں پیش کیے جانے والے ڈراموں اور اسٹیج پرفارمنسز کے خلاف عوامی حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ شہریوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تھیٹر، جو کبھی معیاری تفریح، ثقافت اور فن کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اب بعض عناصر کی وجہ سے تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔
ناقدین کے مطابق بعض ڈراموں میں غیر اخلاقی رقص، نامناسب مکالموں اور خواتین کی تضحیک پر مبنی مناظر کو تفریح کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرتی اقدار متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے پروگرام نہ صرف فن اور ثقافت کے معیار کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ نوجوان نسل پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی متعدد صارفین نے تھیٹر پرفارمنسز کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے اور ریگولیٹری اتھارٹیز اس صورتحال کا نوٹس کیوں نہیں لے رہیں۔ بعض حلقوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر بھی تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کی تذلیل یا غیر مناسب مواد کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا جائے۔
تاجراب لاک ڈاؤن کا ڈرامہ مزید برداشت نہیں کرینگے، محمد کاشف چوہدری
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ڈرامے یا پرفارمنس میں اخلاقی حدود اور قانونی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد، بشمول پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور فنکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ بعض افراد نے ایسے عناصر پر طویل المدتی پابندیوں کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب فنونِ لطیفہ سے وابستہ بعض افراد کا مؤقف ہے کہ تھیٹر کو مکمل طور پر تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے صرف ان عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو فن کے نام پر غیر معیاری اور متنازع مواد پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق تھیٹر ایک اہم ثقافتی روایت ہے جسے مثبت اور معیاری انداز میں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
شہری حلقوں نے حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ثقافتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تھیٹرز میں پیش کیے جانے والے مواد کی مؤثر نگرانی کی جائے تاکہ معیاری تفریح اور ثقافتی اقدار کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔











