ڈنڈے اور طاقت کے زور پر ٹیکس نہیں لیا جا سکتا، کاروباری اوقات کار پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، تاجر رہنماء
اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی صدر کاشف چوہدری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ کو حقیقی معنوں میں تاجر دوست اور عوام دوست بنایا جائے،ڈنڈے اور طاقت کے زور پر ٹیکس نہیں لیا جا سکتا، کاروباری اوقات کار پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، مہنگی بجلی، بھاری ٹیکسوں اور معاشی بدانتظامی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو بحران سے نکالا جا سکے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تنظیم تاجران خیبرپختونخوا کے صدر شرافت علی مبارک، پنجاب کے صدر شرجیل میر، گجر خان کے صدر راجہ جواد، ٹیکسلا بار کے صدر راجہ حبیب، اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف مارکیٹوں کے عہدیداران سمیت تاجرراہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےکاشف چوہدری نے مزید کہا کہ مسلسل مہنگائی، بھاری ٹیکسوں، مہنگی بجلی، گیس اور کاروباری پابندیوں نے تجارت اور صنعت کو آئی سی یو میں پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں کی بندش اور لاک ڈاؤن جیسی پالیسیوں نے تاجروں کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ ان سے نہ حکومت کو فائدہ ہوا اور نہ ہی معیشت کو کوئی بہتری ملی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں کاروباری اوقات کار پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تاجر پہلے ہی بجلی کے بلوں، سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، ٹریڈ ٹیکس اور دیگر متعدد محصولات کی صورت میں قومی خزانے میں بھرپور حصہ ڈال رہا ہے، اس کے باوجود تاجروں کو ٹیکس چور قرار دینا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے خوف اور ہراسانی کی پالیسی ترک کرے اور آسان و سادہ ٹیکس نظام متعارف کرائے۔کاشف چوہدری نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی ٹیکس سکیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 25 ہزار روپے کو فکس ٹیکس قرار دینا درست نہیں بلکہ یہ رجسٹریشن فیس ہے، جبکہ اس کے علاوہ تاجر اپنی سالانہ فروخت پر ایک فیصد ٹیکس ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے پاس نارمل ٹیکس رجیم اور نئی سکیم دونوں کے آپشن موجود ہیں اور ہر تاجر اپنی سہولت کے مطابق فیصلہ کرے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ٹیکس ریٹرن فارم اردو اور علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آسانی کے ساتھ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں۔کاشف چوہدری نے کہا کہ ملک بھر میں جیولرز، موبائل فون اور دیگر کاروباری شعبوں پر چھاپوں اور ہراسانی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے جیولرز کے لیے خصوصی طریقہ کار کی منظوری اور موبائل سیکٹر پر ٹیکسوں میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کی بحالی کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد سیکشن 236 سی اور 236 کے تحت ٹیکسوں کی شرح ایک فیصد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے تعمیرات سے وابستہ 80 سے زائد صنعتوں کو فروغ ملے گا۔تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی صدر نے صنعتوں کے لیے 25 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرنے، سپر ٹیکس کے خاتمے، پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور تنخواہ دار طبقے و تاجروں کے لیے سالانہ 15 لاکھ روپے تک آمدن کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو اربوں روپے کی ادائیگیاں بند کی جائیں اور ان معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے، وی آئی پی کلچر، غیر ضروری بیرونی دوروں، شاہانہ اخراجات اور سرکاری تقریبات پر پابندی عائد کی جائے۔کاشف چوہدری نے سودی نظام معیشت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صرف شرح سود میں کمی سے سالانہ ہزاروں ارب روپے کی بچت ممکن ہے جو تعلیم، صحت اور صنعت پر خرچ کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اگر عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکتی تو اسے عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ بھی نہیں ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل مہنگائی اور معاشی دباؤ سے عوام میں شدید بے چینی پیدا ہو رہی ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔اس موقع پر تنظیم تاجران خیبرپختونخوا کے صدر شرافت علی مبارک نے کہا کہ حکومت 25 ہزار روپے کو فکس ٹیکس قرار دینے کے بجائے رجسٹریشن فیس قرار دے اور ٹیکس فارم علاقائی زبانوں میں فراہم کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ تاجر اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ کو حقیقی معنوں میں عوام دوست اور تاجر دوست بنائے۔مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے رہنما شبیر میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 سال بعد پہلی مرتبہ تاجروں کو بجٹ سازی کے عمل میں مشاورت کا موقع دیا گیا ہے جو خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تاجروں کو معیشت کا اہم اسٹیک ہولڈر تسلیم کرے اور ان کی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنائے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مہنگی بجلی، سولر پینلز پر مجوزہ ٹیکس، پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی ٹیکسوں سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قربانی عوام سے نہیں بلکہ حکمران طبقے سے لی جائے۔تاجر رہنماؤں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف دیا جائے، ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے اور ملکی معیشت کیبحالی کے لیے تاجروں کی تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔











