لندن(شہزاد انورملک) برطانیہ میں نیشنل وولنٹیئرز ویک کے موقع پر پولیس کی جانب سے رضاکار افسران کی خدمات کو اجاگر کرنے کی مہم جاری ہے، تاہم دوسری جانب ہینری نوواک کیس کے بعد پولیس کو شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں اسپیشل کانسٹیبل مونٹی کالوو نے رضاکارانہ خدمات کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس میں شمولیت نے انہیں نئی مہارتیں سیکھنے، اعتماد حاصل کرنے اور کمیونٹی کی خدمت کا موقع فراہم کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ رضاکار پولیس افسران عوامی تحفظ اور جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاہم سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک طرف پولیس عوامی اعتماد حاصل کرنے اور اپنی مثبت شبیہ اجاگر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ہینری نوواک کیس نے پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور طرزِ عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہینری نوواک کیس: پولیس کے خلاف شدید عوامی ردِعمل، ساؤتھمپٹن میں مظاہرے اور جھڑپیں
ہینری نوواک کی موت کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز اور تفصیلات پر عوامی غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ زخمی نوجوان کی حالت کو بروقت سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جبکہ کئی افراد نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ساؤتھمپٹن سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور انصاف کے مطالبات دہرائے۔ سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں افراد نے پولیس کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی اعتماد صرف تشہیری مہمات سے نہیں بلکہ شفافیت، جوابدہی اور انصاف کی فراہمی سے بحال ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہینری نوواک کیس برطانیہ میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کے بحران کی ایک نئی مثال بن چکا ہے، جبکہ رضاکارانہ پولیسنگ اور کمیونٹی تعلقات سے متعلق جاری مہمات بھی اسی تناظر میں زیر بحث آ رہی ہیں۔











