امریکی گرین کارڈ کیلیے کیا کرنا ہوگا؟ نئی پالیسی نافذ

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) امریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ کے حصول سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پاکستان نے امریکہ کے لیے گرین کارڈ کے حصول سے متعلق نئی امیگریشن پالیسی کے اہم نکات جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت درخواست کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

نئی پالیسی کے تحت تارکینِ وطن کو اب امریکہ سے باہر جا کر امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے میں درخواست دینا ہوگی، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خاندانوں کی طویل علیحدگی اور ویزا تاخیر کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

پالیسی کے مطابق اندرونِ ملک پروسیسنگ (ایڈجسٹمنٹ آف اسٹیٹس ) کا طریقہ کار محدود کر دیا گیا ہے اور امریکہ کے اندر گرین کارڈ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت صرف غیر معمولی حالات میں دی جائے گی۔ اس تبدیلی کو گرین کارڈ درخواست کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کا کردار اہم، سحر کامران کا سفارتی کوششوں پر اظہارِ خیال

پالیسی میمورنڈم کے مطابق امریکا میں عارضی ویزوں پر موجود افراد، جن میں طلبہ، سیاح اور عارضی کارکن شامل ہیں، اب عمومی طور پر گرین کارڈ کے لیے’قونصلر پراسیسنگ‘کے ذریعے درخواست دینے کے پابند ہوں گے، جس کی نگرانی امریکی محکمہ خارجہ کرے گا۔

اس فیصلے سے وہ پرانا راستہ بند ہوگیا ہے جس کے ذریعے طلبہ، عارضی ملازمین یا سیاحتی ویزے پر موجود افراد امریکہ میں رہتے ہوئے مستقل رہائش (گرین کارڈ) کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔

پالیسی میمو میں کہا گیا ہے کہ ایسی درخواستیں جو معاشی فائدہ پہنچائیں یا قومی مفاد میں ہوں، انہیں ملک کے اندر ہی نمٹایا جاسکتا ہے، جبکہ دیگر درخواست گزاروں کو قونصلر پراسیسنگ کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جائے گا۔

مزید خبریں