تاجر دوست پالیسیوں کے بغیر معیشت کی بہتری ممکن نہیں، اجمل بلوچ کا پریس کانفرنس میں مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اجمل بلوچ نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ میں تاجر دوست پالیسیاں متعارف کرانا ناگزیر ہے، تاجروں کیلئے ایف بی آر کے نظام کو آسان بنایا جائے اور تاجروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، چھوٹے تاجروں پر عائد اضافی ٹیکسز واپس لیے جائیں، لاک ڈاؤن کو مستقل بنیاد پر ختم کیا جائے، جب مہنگی بجلی خریدتے ہیں تو پھر دوکانیں بند کروانے کی کیا تک ہے،ایف بی آر کے افسران کے اثاثے چیک کئے جائیں،پیٹرول کی قیمتیں کم کی جائیں،آئی ایم ایف کے ملازم کے بجائے وفاقی وزیر خزانہ کسی لوکل رکن قومی اسمبلی کو بنایا جائے جو قوم کو جوابدہ ہو، انہوں نے ان خیالات کا اظہار صدر پنجاب شاہد غفور پراچہ، تنظیم کےسیکرٹری اطلاعات خالد چوہدری ،راجہ زاہد ، انجمن تاجران بلوچستان کے چیئرمین عمران ترین ، احمد خان، وسیم عباسی، عجب گل و دیگر کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ جتنی مشکلات تاجر نےموجودہ عرصہ میں برداشت کی ہے تو پچھلے ساٹھ سالوں میں نہیں کیں ،آئی ایم ایف کے مطابق پاکستانی عوام کی قوت خرید میں ستر فیصد تک کمی آچکی ہے جس سے ملک کی تاجر برادری موجودہ معاشی صورتحال میں شدید مشکلات کا شکار ہے اور آئندہ وفاقی بجٹ میں تاجروں، چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے ٹیکسز، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اجمل بلوچ نےالزام عائد کیا کہ ایف بی آر کےافسران اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ان کے اثاثے چیک کریں ،ہم سب پر سے بوجھ کم ہو جائے گا ،ہمیں ایک اچھے ٹیکس کلکٹر کی ضرورت ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ چھوٹے تاجروں پر عائد اضافی ٹیکسز واپس لیے جائیں، ایف بی آر کے نظام کو آسان بنایا جائے اور تاجروں کو ہراساں اور انکی تذلیل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، اجمل بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئے، انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے بجٹ میں تاجر دوست پالیسیاں متعارف کرانا ناگزیر ہے۔صدر پنجاب شاہد غفور پراچہ نے کہا کہ بجٹ میں بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرائی جائے اور چھوٹے دکانداروں کے لیے آسان قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ تاجروں کے ساتھ مشاورت کے بغیر کوئی معاشی پالیسی نافذ نہ کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر کی تاجر تنظیمیں معاشی استحکام کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتی ہیں، تاہم تاجر برادری پر غیر ضروری بوجھ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بجٹ میں تاجروں کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو ملک گیر احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران تاجر رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ درآمدی خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی، سیلز ٹیکس نظام میں بہتری اور کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ معیشت کا پہیہ تیزی سے چل سکے۔اس موقع پر مختلف تاجر تنظیموں کے نمائندگان، مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور تاجروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

مزید خبریں