کراچی(روشن پاکستان نیوز) پنکی کے گاہکوں کی فہرست میں 30 کے قریب سیاستدانوں کے نام شامل ہونے کا انکشاف سامنے آیا، رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کیس میں سنسنی خیز پیشرفت سامنے آئی، ملزمہ کے ہائی پروفائل ‘کوکین نیٹ ورک’ کے خریداروں کی فہرست میں 30 کے قریب معروف سیاستدانوں کے نام شامل ہونے کا انکشاف ہوا۔
پولیس حکام نے تحقیقاتی پیشرفت رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لنجار کو پیش کر دی ہے، جس کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سندھ حکومت کے حوالے کی جانے والی اس انتہائی خفیہ رپورٹ میں ‘پنکی کوکین نیٹ ورک’ کے تمام بڑے گاہکوں کی تفصیلات موجود ہیں۔
ابتدائی رپورٹ میں یہ تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک کس طرح کام کرتا تھا اور شہر کے کن وی آئی پی حلقوں، بالخصوص لگ بھگ 30 سیاستدانوں کو مہنگی ترین منشیات سپلائی کی جا رہی تھی۔
کراچی: شہری کے اغوا کے بعد قتل اور صحافی ولی بابر قتل کیس کا ملزم ملیر جیل سے فرار
تحقیقاتی رپورٹ میں پنکی کے نیٹ ورک کے کارندوں کا پورا ڈیٹا بھی سامنے آیا، جس میں بتایا گیا کہ ملزمہ پنکی کراچی میں اپنے سگے بھائی ‘شوکت’ کے ذریعے کوکین کا کالا دھندا چلا رہی تھی، نیٹ ورک کو آپریٹ کرنے والے مرکزی ہینڈلرز کی شناخت حمزہ، عداس اور عاقب کے ناموں سے ہوئی ہے۔
کراچی میں سرگرم اس گینگ کے 8 اہم رائیڈرز کا تعلق پنجاب کے شہروں لاہور، فیصل آباد اور وہاڑی سے ہے جبکہ صبا اور انعم عرف ‘اینا’ نامی خواتین اس نیٹ ورک میں بطور کیریئر (منشیات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے) کا کام کر رہی تھیں۔
گذشتہ روز پولیس نے کارروائی کے دوران ملزمہ پنکی کے گھر کے باتھ روم سے لاکھوں روپے مالیت کی مزید کوکین برآمد کی تھی۔
دوسری جانب نیٹ ورک کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے پولیس نے ملزمہ پنکی کے دو سابق شوہروں اور دو بھائیوں کو ملک سے فرار ہونے سے روکنے کے لیے ہنگامی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ان چاروں ہائی پروفائل افراد کے نام سفری پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے قانونی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔











