تہران(روشن پاکستان نیوز) ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان لفظی گولہ باری،متحدہ عرب امارات نے ایرانی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، اور اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور آزادانہ فیصلہ سازی کو نشانہ بنانے والے کسی بھی الزام یا دھمکی کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای کے بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی شراکت داریاں مکمل طور پر اس کا خودمختار معاملہ ہیں، اور کسی بھی فریق کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انھیں دھمکی، مداخلت یا اشتعال انگیزی کا جواز بنائے۔
وزارت نے زور دیا کہ ملک کی سلامتی، اس کے شہری اور اہم انفراسٹرکچر، یا اس کے شہریوں، رہائشیوں اور مہمانوں کی حفاظت کے خلاف براہِ راست یا بالواسطہ دھمکی آمیز بیانات ناقابلِ قبول طرزِ عمل ہیں، جو اچھے ہمسائیگی کے اصولوں، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے خلاف ہیں۔
ایران ڈیل پر پیشرفت سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
وزارت نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کسی بھی دھمکی، الزام یا جارحانہ اقدام سے نمٹنے کے لیے اپنے تمام خودمختار، قانونی، سفارتی اور عسکری حقوق محفوظ رکھتا ہے۔
مزید برآں، وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ دباؤ ڈالنے، الزامات عائد کرنے یا بے بنیاد دعوؤں کو فروغ دینے کی کوششیں نہ تو متحدہ عرب امارات کے اصولی مؤقف کو کمزور کر سکتی ہیں اور نہ ہی اسے اپنے اعلیٰ قومی مفادات، خودمختاری اور آزادانہ فیصلہ سازی کے تحفظ سے روک سکتی ہیں۔
ادھر ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی دفاعی کارروائی صرف امریکا کے خلاف تھی، یو اے ای نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔











