اتوار,  26 اپریل 2026ء
آپ دو میں سے ایک جنگ جیتیں گے

تحریر: سید شہریار احمد

ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

آپ دو میں سے ایک جنگ جیتیں گے

میں اکثر آپ لوگوں کو دو نہایت اہم اور مختصر باتیں بتایا کرتا ہوں جن کا سمجھ لینا اور اس پر عمل کرنا آپ کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر سکتا ہے ۔

گو کہ یہ باتیں میرے لیے سود مند ثابت نہ ہوئیں کیونکہ میں نے ان کو بہت دیر سے سمجھا اور اپنی قوت برداشت کے کمزور ہونے کے سبب ان باتوں پر عمل درآمد نہ کر سکا لیکن ممکن ہے کہ آپ لوگ سمجھنے ، عمل کرنے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے میں مجھ سے بدرجہا بہتر ہوں۔

اسی امید کے ساتھ آپ کو ذہنی سکون اور اور زندگی کی کسی حد تک کامیابیوں کے گر بتاتا ہوں۔

ایک بڑی بات تو یہ ہے کہ ہم سب لوگ آپ اور میں ،زندگی میں دو لڑائیاں لڑ رہے ہیں اور دونوں جگہ کامیابی حاصل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن ہم ان میں سے صرف ایک جنگ ہی جیت سکتے ہیں۔

ہم لوگ عموما دونوں جنگوں میں سرخرو ہونے کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم دونوں لڑائیاں ہار جاتے ہیں۔

ایک جو ہم اپنی زندگی کی، اپنے فیوچر کی، اپنے روزگار کے لیے فکر مند رہتے ہیں اور ہر روز نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

ان کا مقابلہ کرتے ہے ۔

کون سی جاب بہتر ہے ؟

کہاں آپ کو کام کے دوران عزت اور پذیرائی ملتی ہے؟

کون سے ادارے میں آپ کے باس ٹھیک ہیں یا پھر کس جگہ آپ کے ماتحت آپ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں؟

ہم یہ سب چیزیں مینج کرنے میں اپنی زندگی گزار دیتے ہیں۔

نئے نئے طریقے، نئے راستے، نئی نوکریاں اپنانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں

اور دوسری جنگ، ہماری فیملی کے ساتھ جاری رہتی ہے۔

آپ کی ماں آپ سے امید کرتی ہے کہ آپ ایک اچھے بیٹے بنیں۔

اولاد آپ کو ایک بہترین اور آئیڈیل باپ کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہے۔

بیوی کو تو آپ کسی بھی روپ میں پسند نہیں ہوتے لیکن پھر بھی آپ اس کا ایک اچھا شوہر بننے کے لیے جستجو میں لگے رہتے ہیں۔

دنیا ہم سے توقع کرتی ہے کہ ہم اچھے بھائی، اچھے دوست، اچھے انسان بنیں

لیکن جیسا کہ ہم سب انسان ہیں اور انسان، کوئی بھی انسان، مکمل نہیں ہوتا لہذا ان تمام ذمہ داریوں کو نبھانے میں، ان تمام رشتوں کو سنوارنے میں، آپ سے کہیں کوئی بھول چوک ، کہیں کوئی کمی کوتاہی رہ ہی جاتی ہے، جس کا خمیازہ آپ کو بہرحال بھگتنا پڑتا ہے۔

کئی سالوں کی محنت و مشقت، خلوص، محبت سے کی گئی ساری کوششیں آخر میں رائیگاں جاتی ہیں اور آپ کو اپنے سسرال، اپنے خاندان، اپنے بیوی بچوں کے سامنے وہ مقام و مرتبہ نہیں مل پاتا جس کے آپ منتظر اور حقدار ہوتے ہیں۔

کیا آپ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا؟

اگر آپ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو پھر آپ انتظار کیجیے۔ یہ سب کچھ آپ کے ساتھ جلد یا بدیر ہونے والا ہے کیونکہ ہم سب اس تکلیف دہ مرحلے سے گزر چکے ہیں جب ہم نے اپنے آپ کو بہت اچھا بنانے کی کوشش کی لیکن منہ کی کھائی۔

دوسری جنگ جو آپ اپنی محنت، اپنے خلوص، اپنا وقت اور اپنا ہنر دے کر لڑتے ہیں وہاں پر بھی اکثر اوقات آپ نوٹس کرتے ہیں کہ جس ادارے میں آپ شب و روز محنت کر کے روزگار کماتے ہیں وہاں کئی نابغہ روزگار شخصیات بغیر محنت کے، صرف گفتگو کے فن سے اپنے آقا کو خوش کر کے اس جگہ بیٹھ کر تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ آپ کو دیکھتے ہیں جہاں آپ کو بیٹھا ہونا چاہیے ۔

جس پہلی جنگ کا میں نے اوپر ذکر کیا اس کی ناکامی کے سبب دوسری جنگ میں آپ کا ناکام ہونا یقینی اور ناگزیر ٹھہرتا ہے ،

یعنی کہ اگر آپ کو اپنی فیملی، اپنے خاندان، اپنے عزیز و اقرباء سے وہ عزت، مقام اور رتبہ گرانٹ نہیں کیا جاتا تو آپ کی قوت ارادی، آپ کی محنت، آپ کے آگے بڑھنے کی جستجو بھی ماند پڑتی جاتی ہے۔

آپ مایوسیوں میں گھرے رہتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ آپ کی پروفیشنل لائف پر پڑتا ہے اور اس میں آپ کو مزید ناکامیوں اور نامرادیوں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

تو بھائیو اور دوستو

اہم بات یہ ہے کہ آپ نے ان دونوں میں سے ایک جنگ جیتنی ہے اور وہ ہے آپ کی معاشرتی جنگ، سماجی جنگ، جس میں آپ کے جیتنے کے کچھ امکانات ضرور رہتے ہیں لیکن جو اولذکر لڑائی ہے آپ کی بیوی سے ،بچوں سے! سسرال سے ،احباب و اقربا سے، اس میں تو آپ قیامت تک جیت نہیں پائیں گے لہذا آپ پہلی لڑائی سے پہلے ہی دستبردار ہو جائیے اور شکست کا اعلان کر دیجئے اور کہہ دیجئے کہ

آئی ایم اے لوزر

کیونکہ جب تک آپ اس امید میں رہیں گے کہ آپ نے دونوں جنگوں میں کامیابی حاصل کرنی ہے تب تک آپ دونوں محاذوں پر شکست کا سامنا کرتے رہیں گے۔

شروع میں، میں نے کہا تھا کہ میں آپ کو دو مختصر باتیں بتاؤں گا لیکن پہلی مختصر بات ذرا طویل ہو گئی ہے اس لیے اب میں آخر میں ایک مختصر جملہ بول کر بات ختم کرتا ہوں۔

اب دیکھیے کہ میں آپ سب لوگوں کے سامنے ایک اعتراف کرتا ہوں

کہ

آئی ایم اے لوزر

مزید خبریں