جمعرات,  09 اپریل 2026ء
اسلام آباد مذاکرات امن کی بنیاد

تحریر: وقار نسیم وامق

بین الاقوامی سیاست میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب قومیں صرف اپنے مفادات کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر جذبات، غصہ، جوش یا وقتی ردِعمل نہیں بلکہ حکمت، تدبر اور دانشمندانہ فیصلے ہی تاریخ کا دھارا بدلتے ہیں۔ یہی اصول آج پاکستان کی سفارت کاری کے سامنے ہے، ایک ایسا مرحلہ جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری خون ریز جنگ کو روکنے کے لیے اسلام آباد عالمی امید کا مرکز بن چکا ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پھیلتی ہوئی جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے، ایسے میں پاکستان نے ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے پندرہ روزہ سیز فائر کروا کر دنیا کو حیران اور مطمئن کیا ہے۔

یہ کامیابی کسی ایک ملک کی کوشش نہیں تھی۔ چین، روس، ترکی، مصر، سعودی عرب، قطر اور کئی دیگر ممالک نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے قابلِ ذکر جرأت، توازن اور غیر جانب داری کے ساتھ اس بحران میں ثالثی کی اور اس بدولت پاکستان عالمی سفارت کاری کے نقشے پر ایک نمایاں مقام پر موجود ہے۔

اب جب کہ سیز فائر نے جنگ کی آگ کو وقتی طور پر ٹھنڈا کیا ہے، اصل امتحان اسلام آباد میں جاری مذاکرات ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی دعوت پر اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔

اسلام آباد کی فضا میں سنجیدگی اور ذمہ داری محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ مذاکرات صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ عالمی نظریات، طاقتوں اور بیانیوں کے درمیان ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد صرف جنگ روکنا نہیں بلکہ پائیدار عالمی امن کی بنیاد رکھنا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، مگر اس بار اس کا کردار زیادہ فعال، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ مؤثر ہے۔ اس کی چند وجوہات ہیں:

* پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ قابلِ اعتماد تعلقات رکھتا ہے
* خطے میں امن پاکستان سمیت تمام ممالک کی معاشی اور جغرافیائی ضرورت ہے
* عالمی طاقتیں پاکستان کی معتدل اور متوازن پالیسی کو تسلیم کر رہی ہیں
* پاکستان کی قیادت نے سفارت کاری کو جذبات سے پاک اور حکمت پر مبنی انداز میں آگے بڑھایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد آج دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے چند بڑے نتائج سامنے آ سکتے ہیں:

* جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے
* دنیا میں معاشی سرگرمیاں بحال ہو سکتی ہیں
* عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کی نئی فضا قائم ہو سکتی ہے
* پاکستان ایک ذمہ دار امن کار ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے

لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب فریقین جذبات سے بالاتر ہو کر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں۔ جنگیں اکثر میز پر ختم ہوتی ہیں اور دانشمندانہ فیصلے جنگ کو بات چیت کے ذریعے روک لیتے ہیں۔

دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری انسانیت کو اندھیروں میں دھکیل سکتا ہے اور ایک درست فیصلہ نسلوں کو امن دے سکتا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات اسی نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔

پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ جذبات وقتی ہوتے ہیں مگر حکمت ہمیشہ دیرپا نتائج دیتی ہے۔ اگر امریکہ اور ایران اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھیں تو یہ مذاکرات نہ صرف جنگ روکیں گے بلکہ دنیا کو ایک نئے سفارتی دور میں داخل کر سکتے ہیں۔

امن کی بنیاد ہمیشہ عقل، تدبر اور دور اندیشی پر رکھی جاتی ہے اور آج اسلام آباد اسی بنیاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید خبریں