منگل,  17 مارچ 2026ء
پنڈی گھیب حملہ کیس: سپریم کورٹ سے تمام ملزمان کی سزائے موت کالعدم، بری کرنے کا حکم

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سپریم کورٹ نے قتل اور دہشت گردی کے مقدمے میں نامزد ملزمان بری کردیے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پنڈی گھیب قتل اور دہشت گردی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے ملزمان کو دی گئی سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

سپریم کورٹ نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے،شناخت کا عمل مشکوک ہے، گواہان کا موقع پر موجود ہونا اور اتنے بڑے حملے میں کسی خراش کا نہ آنا غیر فطری ہے، لہٰذا شناخت پریڈ قانونی طور پر ناقابل قبول اور غیر محفوظ ہے۔

یاد رہے کہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا، جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے سب انسپکٹر محمد رمضان سمیت 6 اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ ملزمان پر آئل ٹینکرز کو آگ لگانے اور سرکاری اسلحہ چھیننے کا سنگین الزام بھی تھا۔

چکوال میں شراب فروشوں کے خلاف سٹی پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، متعدد بدنام زمانہ ڈیلرز گرفتار، عید سے قبل سینکڑوں بوتل شراب برآمد

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شناخت پریڈ سے قبل ہی ملزمان کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی، پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک کیس میں پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا، تاہم جس کیس میں اعتراف ہوا اس میں ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پہلے کیس میں بریت کے بعد ملزمان کا مبینہ اعتراف اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس اور آزادانہ شہادتیں پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے، اس لیے ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی، حملے میں سب انسپکٹر محمد رمضان سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔

ملزمان پر آئل ٹینکرز کو آگ لگانے اور سرکاری اسلحہ چھیننے کا بھی الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو 6،6 بار سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں، جب کہ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزمان کو دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔

مزید خبریں