ایران کے یورینیم پر قبضے کیلیے امریکا کیا کرنے جارہا ہے؟

تہران(روشن پاکستان نیوز) عالمی میڈیا میں یہ خبریں آ رہی ہیں کہ امریکا ایران کے یورینیم پر قبضے کیلئے اسپیشل آپریشن پر غور کر رہا ہے ۔ بلوم برگ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران کے یورینیم کو قبضے میں لینے کیلئے اسپیشل فورسز بھیجنے کے آپشن پر غور ہیں۔

خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق 3سفارتی عہدیداروں نے ممکنہ منصوبے سے متعلق بریفنگ کی تصدیق کی ہے۔

ایکسیوس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل یورینیم قبضے میں لینے کیلئے مشترکہ کارروائی پر غور کر رہے ہیں، امریکا اور اسرائیل کا تقریباً 450 کلوگرام یعنی 60 فیصد یورینیم ہدف ہے کیونکہ 60 فیصد یورینیم چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔

ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ ایک آپشن یورینیم ایران سے نکالنے اور دوسرا اسے موقع پر تلف کرنا ہے امریکا ایران کی اہم آئل ٹرمینل کارج پر قبضے کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے۔

سعودی عرب کی ایرانی حملوں کی شدید مذمت

امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی جوہری تنصیبات کو محفوظ بنانے پر تبادلہ خیال کررہی ہے ٹرمپ انتظامیہ یورینیم کو تلف کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کر رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایران میں فوج بھیجنا ایک ایسی چیز ہے جس پر امریکا غور کر رہا ہے۔

چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور کچھ تربیتی مشقیں ملتوی کر دی گئی ہیں اور اب لوگوں کو دوسرے طریقوں سے دوبارہ تربیت دی جا رہی ہے جو کہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس قسم کی صورتحال میں اگر کمانڈر انچیف کسی بھی طرح کی زمینی دراندازی کا حکم دے تو منصوبوں پر کام کیا جائے۔

مزید خبریں