منگل,  03 فروری 2026ء
پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری میں بڑی پیش رفت
پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری میں بڑی پیش رفت

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)  سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان پہنچ گیا، اس دوران مقامی سطح پر ویکسین سازی میں دوطرفہ تعاون پر اہم پیش رفت کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد نے منسٹر آف انڈسٹری کے سینیئر ایڈوائزر نزار الحریری کی قیادت میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزارتِ صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس کیا۔

اجلاس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری، مستقبل کی ڈیمانڈ، دستیاب انفراسٹرکچر اور متعلقہ صلاحیتوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزارتِ صحت کے ماتحت اداروں کے سربراہان، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر قومی ادارہ صحت نے بھی اجلاس میں بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ آبادی ہے اور ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جو ہر سال نیوزی لینڈ جتنی آبادی کے برابر اضافہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، تاہم یہ ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتیں اور عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کی جاتی ہیں، جس پر سالانہ تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔

پنجاب میں مضر صحت انجیکشنز کے مخصوص بیچز کی فروخت پر پابندی، فوری واپسی کا حکم

وزیر صحت نے کہا کہ ویکسین کی لاگت کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں اور 51 فیصد حکومت خود برداشت کرتی ہے، جس سے مالی بوجھ نسبتاً کم رہتا ہے۔

تاہم، سال 2031 کے بعد بین الاقوامی امداد ختم ہو جائے گی اور حکومت کو ویکسین کی تمام لاگت اپنی معیشت سے برداشت کرنا ہوگی، اگر مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو 2031 تک سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو قومی معیشت پر بڑا بوجھ ڈالے گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارتِ صحت نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان میں تیرہ بیماریوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے عملی پیش رفت جاری ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کا اشتراک خطے کے لیے مثال بنے گا اور دونوں ممالک کے درمیان ویکسین سازی میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

مزید خبریں