اتوار,  30 نومبر 2025ء
اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں: بلاول

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) چیئرمین  پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ  اٹھارہویں ترمیم  اور  این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے  والے آگ کے  ساتھ کھیل رہے ہیں،  پیپلز پارٹی ایسےکسی فیصلے میں ساتھ نہیں دے گی جس سے وفاق کمزور ہو۔

 پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر ویڈیو لنک  سے خطاب میں  پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیجیٹل جلسے سے خطاب کر رہاہوں،ہمارا معاشی فلسفہ ہے کہ پسماندہ طبقے کو معاشی طو ر پر مضبوط کرنا ہے، پاک بھارت جنگ کے بعد یہ ہمارا پہلا یوم تاسیس ہے، بھارت کے سات جہاز گرا کر ہماری ائیر فورس نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کردیا۔

بلاول کا کہنا تھا  کہ ملک میں اس وقت سیاسی بحران ہے، اس کو ایڈریس کرکے مشکلات سے نکالنا ہے، پیپلزپارٹی نے حال ہی میں حکومت کے ساتھ مل کر ایک آئینی ترمیم پاس کرائی، پیپلزپارٹی جب خود آئینی ترمیم لے کر آتی ہے تو انقلابی قانون سازی کرتے ہیں، 1973 کے آئین کے بعدکسی ترمیم میں کوئی طاقت ہےتو وہ 18ویں ترمیم میں ہے۔

مزید پڑھیں: عظمیٰ بخاری جس طرح اقتدار میں آئیں بلاول ایسے نہیں آئیں گے: شرجیل میمن

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے ایک وفد بھیجا اور کہا کہ وہ آئینی ترمیم لے کر آنا چاہتے ہیں، حکومت چاہتی تھی کہ آئینی عدالت اور آرٹیکل 243 کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو مجسٹری کا نظام لے کر آئے، حکومت چاہتی تھی کہ جو آئینی تحفظ ہم نے صوبوں کو دلوایا تھا اس کو ختم کیا جائے، فخر سےکہہ سکتاہوں آپ کی وجہ سے اس آئینی تحفظ کو چھیڑا نہیں گیا، حکومت اس مطالبے سے پیچھے ہٹی، ہم نےآئینی عدالت بنا کر چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق پوری کردی اور صوبوں کو برابری کی نمائندگی دلوادی، یہ تاریخی کامیابی ہے، شاید کسی کو اس کا احساس نہ ہو۔

امید کرتے ہیں کہ آئینی عدالت ملک کے بڑے مسئلےکو دیکھےگی: بلاول

بلاول کا کہنا تھا کہ عدالت نے قائد عوام کا عدالتی قتل کروایا، ہماری عدالت کی تاریخ آپ کے سامنے ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ آئینی عدالت ملک کے بڑے مسئلےکو دیکھےگی، آئینی عدالت سے عام شہریوں کے ایشوز کو فوری طور پر ریلیف ملےگا، ماضی میں عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا، کچھ لوگوں کی کوشش ہےکہ آئینی عدالت کو متنازع بنائے، امید ہے آئینی عدالت اپنے کردار سے ان لوگوں کو غلط ثابت کردے گی۔

اجازت نہیں دیں گےکہ کوئی اور ادارہ پارلیمان کے دائرے میں مداخلت کرے: بلاول

بلاول نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمان کا کام ہے، اگر کوئی کام اتفاق رائے سے کیا گیا ہو تو نظر ثانی کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے، ہم اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی اور ادارہ پارلیمان کے دائرے میں مداخلت کرے، تاریخ بھری پڑی ہے کہ دوسرے ادارے نے پارلیمان کے دائرے میں آکر مداخلت کی، عوام کا فیصلہ ہےکہ ہمارے فیصلے صحیح ہیں یا نہیں، عدالت کا اختیار نہیں، آئین سازی کرنا پارلیمان کا اختیار ہے۔

انہوں نےکہا کہ کارکن کسی پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں، ہم نے آئینی عدالتیں بنائی ہیں، آپ کے حقوق کا تحفظ کرتا آرہا ہوں کرتا رہوں گا، پیپلزپارٹی ایسے کسی فیصلہ میں ساتھ نہیں دے گی جس سے وفاق کمزور ہو، اٹھارہویں ترمیم اوراین ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کا وزیرسندھ سے متعلق غلط بات کر رہا ہے، ملک کے تمام صوے بھائیوں کی طرح ہیں، مودی کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، متحد ہوکر دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، ملکی سلامتی کے لیے ہم سب کو متحد ہونا ہوگا۔

مزید خبریں