اتوار,  10 مئی 2026ء
سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ نے سٹیشنری پرسیلز ٹیکس بڑھانے کی مخالفت کردی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے سٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی مخالفت کردی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا ،کمیٹی نے سفارش کی کہ رفاعی ادارے جو میڈیکل آلات درآمد کرتے ہیں اس پر سیلز ٹیکس کی شرح کم کی جائے، گورنمنٹ کے ہسپتالوں کیلئے درآمد ہونے والے آلات پر بھی ٹیکس چھوٹ ہونی چاہیے، درآمدکندگان نےکہاکہ ایکسپورٹرز کے ٹرن اوور پر پہلے فکس ٹیکس تھا اب نارمل ٹیکس رجیم میں لایا گیا ہے، ٹرن اوور پر ٹیکس کو فکسٹیکس رجیم سے نہ نکالا جائے، ریٹیلرز کاکہناتھاکہ ہم ٹیکس دینا چاہتے ہیں پی او ایس کے نظام میں موجود ہیں، ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیا جارہا ہے، حکومت کو ٹیکس ریٹ کے بجائے ٹیکس بیس کو بڑھانا چاہیے، ممبر آئی آر پالیسی ایف بی آرنے کہاکہ 18 فیصد سیلز ٹیکس بڑے برانڈز پر لگایا گیا ہے، جو وہاں جاتے ہیں وہ 15 کے بجائے 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی دے سکتے ہیں، ممبر آئی آر پالیسی نے کہاکہ جب شناختی کارڈ کی شرط رکھی تھی تو کچھ ماہ بعد حکومت کو واپس لینی پڑی، چیئرمین خزانہ کمیٹی نے کہاکہ ٹیکس کی شرح کو بڑھانا درست عمل نہیں ہے جو ٹیکس دے رہے ہیں ان پر بوجھ ڈالا گیا، سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ قانون پر چلنے والوں کیلئے اس ملک میں جینا مشکل ہوگیا ہے، ہم نے خود راستے بنائے ہیں نان فائلرز کو قانونی حیثیت دی ہے، فائلر اور نان فائلر کا خیال ہی غلط ہے، جو فائلر بن گیا اس کی زندگی کو اجیرن بنایا جائے گا اور ڈر پیدا کیا جارہا ہے، سینیٹر شبلی فرازنے کہاکہ یہ ملک کیلئے لانگ ٹرم میں مزید خطرناک ثابت ہوگا، سینیٹر شبلی فرازنے کہاکہ جس طرح چلایا جارہا ہے اس طرح چلنا مشکل نظر آرہا ہے، جو پیسہ کما رہا ہے اسی پر نظر ہے وہ حلال کما رہا ہے اور مذہب بھی اس کی اجازت دیتا ہے، سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہتنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا وہ چوری کرکے ٹیکس دے گا، اجلاس میں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن پناہ نے میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافے کا مطالبہ کر دیا ۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان میں ہر ایک منٹ بعد ایک شخص کو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے، پاکستان میں تین کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ لوگ ذیابیطس کے ساتھ زندہ ہیں، روزانہ 300 سے زیادہ لوگوں کے اعضاء ذیابیطس کی وجہ سے کاٹے جارہے ہیں، ذیابیطس کے مرض میں 30 فیصد حصہ میٹھے مشروبات کا ہے۔ پناہ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 2200 سے زیادہ لوگ غیر متعدی بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہورہے ہیں، پاکستان میں صرف ذیابیطس اور اس سے متعلقہ پیچدگیوں سے 1100 لوگ روزانہ موت کا شکار ہو رہے ہیں، فوری اقدامات نہ کیئے توذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 2045 تک 6 کروڑ بیس لاکھ ہو جائے گی، 2021 میں ذیابیطس کے علاج پر 2 ارب 64 کروڑ ڈالر اخراحات آئے۔

مزید پڑھیں: ٹیلی کام کمپنیوں کی موبائل بیلنس پر 75 فیصد ٹیکس کی کٹوتی کی مخالفت

 

مزید خبریں