کراچی (روشن پاکستان نیوز)صدر پاکستان آصف علی زرداری کی زیر صدرات اجلاس ہوا جس میں سندھ کی امن و امان کی صورتحال، سٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری کی زیر صدرات سندھ میں امن امان کی مجموعی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالاجی خالد مقبول صدیقی،سینئر وزیر شرجیل میمن، وزیر توانائی ناصر شاہ، وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ڈی جی رینجرز میجر جنرل اظہر وقاص، سیکریٹری داخلہ سندھ اقبال میمن، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، صدر کے سیکریٹری شکیل ملک، آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن، مختلف ایجنسیوں کے صوبائی سربراہان، ڈائریکٹر ایف آئی اے زعیم شیخ اور دیگر شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بھی صد ر مملکت کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 2014 میں کراچی عالمی کرائم انڈیکس میں چھٹے نمبر پر تھا جو 2024 میں 82 ویں نمبر پر آ گیا ہے، ورلڈ کرائم انڈیکس میں شکاگو، آمریکا 66.2 کرائم انڈیکس کے ساتھ 39 ویں نمبر پر ہے، دہلی 59.02 کرائم انڈیکس کے ساتھ 74 ویں ، تہران 59.02 کرائم انڈیکس کے ساتھ 81 ویں اور کراچی 56.5 کرائم انڈیکس کے ساتھ 82 ویں نمبر پر ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید بریف کیا کہ دنیا کے بڑے شہروں کے رینک اینڈ کرائم انڈیکس میں کراچی سے زیادہ جرائم ہیں جبکہ ہمارا شہر آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے، اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے سندھ پولیس نے اہم اقدامات کئے ہیں، شاہین فورس کو 386 موٹر سائیکلوں کی تعیناتی کے ساتھ دوبارہ فعال کیا ہے، پولیس کو اضافی 168 گاڑیوں اور 120 موٹر سائیکلوں کی تعیناتی کے ساتھ مدگار 15 کی ازسرنو تشکیل دیا گیا ہے، عادی مجرموں کی ای ٹیگنگ (4000 ڈیوائسز کے لیے تجویز)، سندھ کے 40 ٹول پلازوں کے لیے سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم(ایس فور) پروجیکٹ جس میں اے این پی آر اور چہرے کی شناخت والے کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کا سٹریٹ کرائم سے متعلق بریفنگ کے کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں اگر اسٹریٹ کرائم ہے تو ان کے اسباب ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا کوئی خاص سبب نہیں، گاڑیاں اور موبائل چوری ہونے کے بعد کہاں جاتی ہیں پولیس کو معلوم ہونا چاہئے، چوری کا سامان کہاں جاتا ہے ان کے خلاف پولیس کارروائی کرے۔
کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن پر بریفنگ
صدر مملکت آصف علی زرداری کو کچے کے علاقوں میں کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن نے کہا کہ فروری 2023 سے اب تک دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر 107 پولیس ناکے قائم کیے گئے ہیں، ہنی ٹریپس کے ذریعے 609 افراد کو اغوا ہونے سے بچایا گیا ہے، گزشتہ 4 ماہ جنوری تا اپریل 2024 کے دوران 103 افراد کو اغوا کیا گیا، مغویوں میں سے 76 کی رپورٹ ہوئی جبکہ 47 کی دائر نہیں کروائی گئی، پولیس نے 103 مغویوں کو بازیاب کروایا اور 20 افراد کی بازیابی کیلئے آپریشن جاری ہے۔ آئی جی سندھ نے بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پولیس نے مذکورہ چار ماہ کے دوران ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے دوران 63 کو ہلاک، 120 کو زخمی، 418 کو گرفتار کیا، مختلف اقسام کے 469 ہتھیار برآمد کئے، آپریشن میں 17 پولیس اہلکاروں نے شہادت نوش کی اور 27 جوان زخمی ہوئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بات آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ 618 تھانوں میں سے 200 تھانوں کی مرمت اور تعمیر نو کی منظوری دی گئی ہے۔
صدر مملکت نے وزیراعلیٰ سندھ کو شکارپور اور کشمور اضلاع کے کچے کے علاقے کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے دریا کے دائیں کنارے پر پولیس پکٹس قائم کرنے، کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے، شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو مؤثر بنانے کے لیے ناردرن بائی پاس پر باڑ لگانے کا کام شروع کرنے، گھوٹکی – کندھ کوٹ پل کا کام تیز کر کے مکمل کرنے، دریائے سندھ کے دونوں کناروں بالخصوص رواونٹی تا جمرو اور گڈو تا گڑھی تیگھو کے علاقے میں ترقیاتی کام شروع کرنے، کچے کے علاقوں میں قبائلی جھگڑوں کو حل کرنے کے لیے معزز افراد کو شامل کرنے اور اس کے سماجی پہلو کا بھی احاطہ کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔صدر مملکت نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے درمیان سہ فریقی انتظام کے لیے موثر کوآرڈینیشن تیار کرنے کی ہدایت جاری کی جبکہ پولیس کو ڈرگ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔
منشیات پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ سندھ حکومت تمام والدین کومنشیات کے خلاف آگاہ کرے، مجھے رپورٹس ہیں کہ منشیات سکولوں تک پہنچ گئی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے، ہمیں اپنے بچوں کو منشیات سے بچانا ہے۔











