منگل,  03 نومبر 2026ء
برطانیہ میں مستقل رہائش کا نیا قانون : اہم خبر آگئی

لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانوی حکومت نے مستقل رہائش کے حصول کی مدت کو موجودہ 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے نئے امیگریشن نظام کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی دیگر تفصیلات بیان کی ہیں۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں تارکین وطن کو مستقل رہائش کے لیے طویل انتظار سے استثنیٰ مل گیا، دیگر تارکین وطن کے لیے مدت 10 سال مقرر کردی گئی۔

برطانوی حکومت نے گزشتہ سال مستقل رہائش، جسے انڈیفینیٹ لیو ٹو ریمین (آئی ایل آر) کہا جاتا ہے، کے لیے عام طور پر درکار پانچ سالہ مدت کو بڑھا کر 10 سال کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

کم اجرت والے صحت اور سوشل کیئر شعبے کے کارکنوں کے لیے ابتدائی طور پر 15 سال تک انتظار کی تجویز سامنے آئی تھی، تاہم سیاسی دباؤ اور لیبر پارٹی کے اندر تحفظات کے بعد حکومت نے کیئر ورکرز کے لیے رعایت کا اعلان کردیا۔

نئی اصلاحات کے تحت شعبہ صحت کے کارکنان پانچ سال بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے، تاہم انہیں دیگر شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی، جن میں انگریزی زبان پر بہتر دسترس، صاف مجرمانہ ریکارڈ اور نیشنل انشورنس میں باقاعدہ شراکت شامل ہے۔

برطانیہ نے اپنی 4 میں سے 3 جوہری آبدوزیں سمندر میں تعینات کردیں، ایک آبدوز ایٹمی ہتھیاروں سے لیس

حکومت کے مطابق زیادہ تر تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش کی بنیادی مدت 10 سال ہوگی، زیادہ آمدن والے افراد اور بعض مخصوص شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے یہ مدت مزید کم ہوسکتی ہے، جبکہ 1 لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ سالانہ آمدن رکھنے والے بعض افراد 3 سال میں مستقل رہائش کے اہل ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب غیر قانونی طریقے سے، خصوصاً چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش کا انتظار 30 سال تک بڑھ سکتا ہے۔

حکومتی اندازے کے مطابق ان تبدیلیوں کے نتیجے میں 2021 کے بعد برطانیہ آنے والے تقریباً 5 لاکھ تارکین وطن 2030 تک مستقل رہائش کے اہل نہیں ہوسکیں گے، تاہم اسی عرصے میں تقریباً 14 لاکھ افراد نئی شرائط کے تحت مستقل رہائش کے اہل رہیں گے۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو افراد ملک اور معیشت میں زیادہ حصہ ڈالیں گے، انہیں مستقل رہائش جلد مل سکے گی، جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو زیادہ انتظار کرنا پڑے گا یا ان کی درخواست مسترد ہوسکتی ہے۔

مزید خبریں