واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز) ٹرمپ حکومت نے مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی میں ناکامی پر بینک آف امریکہ پر 1.2 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریگولیٹرز نے بینک آف امریکا پر 1.21 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ جرمانہ ممکنہ منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا پتہ لگانے میں وسیع پیمانے پر ناکامی کی وجہ سے عائد کیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ عائد کیا گیا حالیہ جرمانہ محکمے کی تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا جرمانہ ہے، جو بینک کی جانب سے پانچ ارب ڈالر سے زائد مالیت کی مشکوک سرگرمیوں کی حکومت کو رپورٹ نہ کرنے کی وجہ سے عائد کیا گیاہے جب کہ اس میں ایک ارب ڈالر کی وہ رقم بھی شامل ہے، جس سے قومی سلامتی اور دیگر ترجیحی نوعیت کے غیر قانونی مالیاتی خطرات لاحق تھے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بینک نے تعمیلی پروگرام (کمپلائنس پروگرام) تشکیل دیتے وقت “اپنی آمدنی کو ترجیح دی” اور اپنے اندرونی کنٹرول کے نظام کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر مالیاتی اداروں جیسے بیرونی فریقین کی جانب سے کی جانے والی پوچھ گچھ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا۔
اس معاہدے (کنسنٹ آرڈر) کے تحت بینک آف امریکا کے لیے لازم ہے کہ وہ ماضی کے لین دین کا جائزہ لینے، اس وقت پکڑی نہ جا سکنے والی مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے اور ان لین دین کی رپورٹ ‘فن سین’ (FinCEN) کو جمع کرانے کے لیے کسی آزاد فریقِ ثالث کی خدمات حاصل کرے۔
ریگولیٹر نے کہا کہ بینک کا تعمیل پروگرام “کم اور غیر موثر” تھا اور اس کے لین دین کی نگرانی کے نظام کی وجہ سے بینک نے اربوں ڈالر کے لین دین پر مشکوک سرگرمی کی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر کی۔
پاکستانیوں کے لیے خلیجی ملک میں ویزا فری انٹری، بڑی خبر آگئی
اس کے علاوہ، بینک نے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے دفتر کو متعدد پابندیوں کے پروگراموں کی 400 سے زیادہ واضح خلاف ورزیوں کے لیے $11.6 ملین جرمانہ ادا کیا۔
یہ جرمانہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکن ایکسپریس کو بھی اسی طرح کی اینٹی منی لانڈرنگ کی کوتاہیوں پر 350 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
دوسری جانب جرمانہ عائد کیے جانے پر بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس جرمانے سے اس کی تیسری سہ ماہی کی آمدنی متاثر ہوگی۔
بینک آف امریکہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، “مالیاتی جرائم سے متعلق ضوابط کی پاسداری ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اسے درست طریقے سے انجام دینا ہماری ذمہ داری ہے۔











