اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان اور رومانیہ کے درمیان ڈیری تعاون کی نئی راہ کھل گئی، رومانیہ کا سب سے بڑا ڈیری فارم پاکستانی تجارتی وفد کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
پاکستان رومانیہ بزنس کونسل (پی آر بی سی) کے زیر اہتمام پاکستانی تجارتی وفد نے رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ کے قریب ملک کے سب سے بڑے دودھ پیدا کرنے والے فارم کا دورہ کیا۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان زراعت اور ڈیری کے شعبوں میں تعاون اور کاروباری شراکت داری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پی آر بی سی کے مطابق وفد کی قیادت عاطف فاروقی نے کی، جو وفد کے سربراہ ہونے کے ساتھ سندھ میں رومانیہ کے نامزد اعزازی قونصل بھی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیسکو کے خلاف 9 سالہ بچی لُبابہ کے حق میں فیصلہ جاری کر دیا
دورے کے دوران پاکستانی وفد کو فارم کے انتظامی ڈھانچے، جدید زرعی طریقوں، مویشیوں کی افزائش اور دودھ کی پیداوار کے نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ فارم تقریباً 7 ہزار ہیکٹر رقبے پر قائم ہے اور پہلی نسل سے چلنے والا خاندانی کاروبار ہے۔ فارم میں مویشیوں کے لیے درکار اناج اور سائیلج خود کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زائد زرعی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کردی جاتی ہے۔
فارم میں دودھ دینے والی ہولسٹین نسل کی تقریباً 7 ہزار گائیں موجود ہیں۔ ہولسٹین نسل کو دنیا کی زیادہ دودھ دینے والی گائے کی نسلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فارم میں گوشت کی پیداوار کے لیے تیزی سے بڑھنے والی مویشیوں کی نسل بھی پالی جاتی ہے۔
فارم کے انتظامی اور پیداواری امور جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، جس سے مویشیوں کی نگہداشت، خوراک، دودھ کی پیداوار اور دیگر معاملات کی نگرانی کی جاتی ہے۔
انتظامیہ نے پاکستانی وفد کو بتایا کہ فارم سے روزانہ مخصوص ٹینکرز کے ذریعے خام دودھ رومانیہ کے شہر براسوو میں قائم ایک بڑی ڈیری فیکٹری کو فراہم کیا جاتا ہے۔ فارم پر ایک بڑے بائیو گیس پلانٹ کی تنصیب کا منصوبہ بھی جاری ہے، جس کے جلد فعال ہونے کی توقع ہے۔
دورے کے دوران پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے ممکنہ تعاون کے مختلف شعبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان میں رومانیہ کے ڈیری اور زرعی شعبے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ فارم کی توسیع کے منصوبے میں پاکستانی کاروباری اداروں کی ممکنہ سرمایہ کاری شامل ہے۔











