هفته,  10 اکتوبر 2026ء
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیسکو کے خلاف 9 سالہ بچی لُبابہ کے حق میں فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے بجلی کے کرنٹ سے دونوں ہاتھ گنوانے والی 9 سالہ بچی لبابہ کے علاج اور بحالی کا حکم برقرار رکھتے ہوئے پشاور الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی (پیسکو) کی درخواست مسترد کر دی۔

11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیسکو کی پٹیشن کو خارج کر دیا اور صدرِ پاکستان کا فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالت نے حکم دیا کہ پیسکو متاثرہ بچی لُبابہ کی آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن راولپنڈی سے جامع طبی جانچ کرائے، اور پیسکو متاثرہ بچی کے جدید مصنوعی اعضا، علاج اور بحالی کے تمام اخراجات اٹھانے کا پابند ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر ضروری علاج یا مصنوعی اعضا کی سہولت پاکستان میں دستیاب نہ ہوئی تو پیسکو کو بیرونِ ملک علاج کا خرچ بھی برداشت کرنا ہوگا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ذمہ داری صرف بلا تعطل بجلی دینا نہیں بلکہ انسانی جانوں کی حفاظت اور حفاظتی تقاضے پورے کرنا بھی ہے۔

26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتی تقرریوں میں ن لیگ نظر انداز؟ لیگی وکیل خالد تاج کا بڑا دعویٰ

وفاق کی جانب سے اس کیس کی پیروی ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین نے کی، جولائی 2021 میں چارسدہ کے علاقے پیر قلعہ میں 11 کے وی کی بجلی کی لائن گرنے سے بچی لُبابہ شدید جھلس گئی تھی، اس حادثے کے نتیجے میں بچی کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے گئے تھے، اور وہ مستقل معذوری کا شکار ہو گئی تھی۔

بعد ازاں بچی کے لواحقین نے معاوضے اور علاج کے حصول کے لیے وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا، وفاقی محتسب نے ابتدائی طور پر شکایت منظور کر لی تھی لیکن بعد میں نظر ثانی اپیل میں فیصلہ تبدیل کر دیا تھا۔ اس کے بعد صدرِ پاکستان نے 30 اکتوبر 2025 کے فیصلے میں پیسکو کو بچی کے علاج اور مصنوعی اعضا کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

مزید خبریں