ماسکو(محب) روس کے سائبیریا کے علاقے ایرکوتسک میں طاعون پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے کی 28 سالہ خاتون کارکن کی پراسرار موت کے بعد عالمی ادارۂ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے صورتحال سے متعلق اہم تفصیلات جاری کردی ہیں۔
WHO کے مطابق خاتون کی موت کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی اور اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ ان کی موت پلمونری طاعون کے باعث ہوئی۔ روسی حکام کے مطابق خاتون کو نامعلوم وجہ سے نمونیا تھا۔
واقعے کے بعد تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی یا قرنطینہ میں رکھا گیا۔ تاہم WHO کے مطابق اب تک زیرِ نگرانی افراد میں کسی خطرناک متعدی بیماری کے جراثیم کی نشاندہی نہیں ہوئی اور کسی بھی رابطے میں آنے والے شخص میں بیماری کی علامات سامنے نہیں آئیں۔
WHO کے ابتدائی جائزے کے مطابق ایرکوتسک میں خطرہ کم سے درمیانے درجے تک، روس بھر میں کم جبکہ یورپی خطے میں انتہائی کم ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے روسی حکام سے مزید معلومات اور ٹیسٹ رپورٹس بھی طلب کی ہیں۔
یوکرین کا روس کی جانب سے اب تک کے سب سے بڑے حملے کا دعویٰ، 11 افراد ہلاک
پلمونری طاعون طاعون کی ایک خطرناک قسم ہے جو سانس کے قطروں کے ذریعے انسان سے انسان میں منتقل ہوسکتی ہے۔ تاہم بروقت تشخیص کی صورت میں اس کا علاج اینٹی بایوٹکس سے ممکن ہے۔
WHO کے مطابق فی الحال صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے اور مزید معلومات سامنے آنے کے بعد خطرے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔











