بدھ,  23  ستمبر 2026ء
ارجنٹینا کے صدر نے جنرل اسمبلی خطاب کے دوران اقوام متحدہ کو ’بےکار‘ تنظیم قرار دے دیا

نیویارک(روشن پاکستان نیوز) ارجنٹینا کے صدر ہابیئر میلی نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران اقوام متحدہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’بے کار تنظیم‘ قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ترین لاطینی امریکی اتحادی سمجھے جانے والے شعلہ بیان رہنما ہابیئر میلی نے اقوام متحدہ پر اجتماعی سلامتی اور انسانی حقوق کی ضمانت دینے کے اپنے فرض میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے امن کے بجائے ’افراتفری، تشدد اور بین الاقوامی دہشت گردی‘ کو پنپنے کی کھلی چھوٹ دی ہے۔

اپنے خطاب میں ہابیئر میلی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ ’ایک بے کار تنظیم بن چکی ہے، جو محض نیک نیت بیوروکریٹس کے روپ میں چھپے خطرناک حد تک متکبر پیراسائٹس کے ایک طبقے کی پرورش کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہی‘۔

انہوں نے اقوام متحدہ پر ارجنٹینا کے ‘فاک لینڈ جزائر’ کے دعوے پر آنکھیں چرانے اور نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا۔

’امریکا کے ساتھ جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘ ایرانی صدر کا اقوام متحدہ میں خطاب

واضح رہے کہ یہ جزائر برطانوی زیرِ انتظام علاقہ ہیں جنہیں ارجنٹینا کے عوام ‘لاس مالویناس’ کہتے ہیں اور اسے اپنی سرزمین کا اٹوٹ حصہ مانتے ہیں۔ اس علاقے کے تنازع پر 1982 میں برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔ ارجنٹائن کا الزام ہے کہ برطانیہ اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جن میں فریقین کو یکطرفہ کارروائی سے باز رہنے کا کہا گیا تھا۔

عالمی قوانین کے نفاذ اور اقوام متحدہ کے کردار پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ارجنٹینا کے صدر نے کہا کہ ’جو لوگ عالمی اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں انہیں اس کا کوئی صلہ نہیں ملتا، جبکہ جو لوگ ان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں، انہیں کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑتا‘۔

مزید خبریں