واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں صدر میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے جس کی ویڈیو وائٹ ہاؤس نے جاری کی۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے صدر مسعود پزشکیان کی تصاویر جاری کی گئیں جس میں وہ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کررہے ہیں، اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پربطور ثالث دستخط کردیے ہیں۔
امریکا اور ایران کے مندوبین کی اس ملاقات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا آغاز ہونا ہے ، اس اہم میٹنگ کیلئے پہلےسوئٹزرلینڈ کا شہر جنیوا چنا گیا تھا۔
2 روز پہلے اچانک اسے تبدیل کرکے برجنسٹاک کا انتخاب کرلیا گیا، برجنسٹاک ہوٹل کمپلیکس پہاڑی علاقے میں واقع انتہائی خوبصورت اور محفوظ سیاحتی مقام ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار کی جانب سے بتائی گئی 5 وجوہات
ایرانی وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار نے بات کرتے ہوئے مقام کی تبدیلی کی 5 وجوہات بتائی تھیں.
سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ برجنسٹاک کے چناؤ کی سب سے بڑی وجہ وہاں سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات تھے۔
دوسری اہم وجہ میڈیا کو مینج کرنےمیں سہولت بتائی گئی تھی کیونکہ اس مقام تک عام افراد کی رسائی آسان نہیں ہے اور جنیوا کے مقابلے میں یہاں رازداری برقرار رکھنا، سکیورٹی حکام کے نزدیک کہیں آسان سمجھا جاتا ہے۔
ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرعہ فال برجنسٹاک کیلئے اس لیے بھی نکلا تھا کہ سوئٹزرلینڈ نے2024 میں 15 سے 16 جون تک یوکرین میں امن کیلئے مذاکرات کا کامیاب اہتمام کیا تھا۔
یوکرین کی درخواست پرمنعقد اس اجلاس میں دنیا بھر سے 160 ممالک اور عالمی اداروں سے وابستہ وفود نے شرکت کی تھی جن میں امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے وفود بھی موجود تھے، برجنسٹاک کا یہ کامیاب تجربہ امریکا ایران سفارتکاری کیلئے بھی مناسب سمجھا گیا تھا اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ ثالثوں نے مشترکہ طور پر اسی مقام کی تجویز پیش کی تھی۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکا ایران مذاکرات کا یہ مرحلہ برجنسٹاک میں انجام پاسکے گا یا نہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ اگر جمعہ کو برجنسٹاک میں مذاکرات نہ ہوئے تو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کی اگلا تاریخ یا مقام کیا ہوگا۔











