پشاور(روشن پاکستان نیوز) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے ترقیاتی پروگراموں اور شعبہ صحت کے لیے شروع کیے گئے پروگراموں سے متعلق اہم ہدایات جاری کر دیں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 بارے اجلاس ہوا جس میں صحت، زراعت ، کھیل و امور نوجوانان اور ریلیف سیکٹرز کے نئے مجوزہ منصوبوں پر غور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کینسر کے غریب مریضوں کے لیے مفت ادویات کا مکمل شدہ منصوبہ دوبارہ شروع کرنے اور صوبہ بھر تک توسیع دینے کی ہدایت کی اور خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ منصوبہ بھی جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے فنڈز فراہمی کی ہدایت کی۔
اس منصوبے کے وفاقی حکومت کے ذمے فنڈز کی فراہمی کے لیے بھی خطوط لکھنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے بڑے شہروں میں واٹر ٹیبل ریچارج کے لیے رین اور فلڈ واٹر ہارویسٹنگ کے لیے بھی منصوبہ تجویز کرنے کی ہدایت کر دی۔ محکمہ زراعت سے گندم و دیگر غذائی اجناس میں خود کفالت کے لیے بھی پلان طلب کر لیا۔
ریڈیو پاکستان حملہ کیس: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ملزم نامزد
اسپیشل چلڈرن کے لیے بڑے سپورٹس کمپلیکسز میں علیحدہ سپورٹس فسیلیٹیز قائم کرنے کے لیے بھی منصوبہ تجویز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی یوتھ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے بھی اسکیم تجویز کی جائے، اگلے سال کا بجٹ نوجوانوں اور غریب و متوسط طبقے کا بجٹ ہوگا۔
ان شعبوں کے اہم منصوبوں میں خان انسٹیٹیوٹ آف آرگن ٹرانسپلانٹ پشاور میں ہیلتھ سٹی اور جنرل اسپتال کا قیام تجویز کیا گیا ہے۔ ملاکنڈ اور کوہاٹ میں میڈیکل کمپلیکسز کا قیام، 5 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بریسٹ کینسر اسکریننگ سینٹرز کا قیام بھی تجویز کیا گیا۔
مختلف بی ایچ یوز ، آر ایچ سیز اور کیٹگری ڈی اسپتالوں کی اپگریڈیشن، مختلف بی ایچ یوز، آر ایچ سیز کی ریویمپنگ ، اسپتالوں میں مسنگ سہولیات کی فراہمی اور مردان میں آن کالوجی سنٹر ، برن اور کڈنی سینٹر کا قیام ، صوابی میں کلینیکل ٹاور کا قیام بھی تجویز کیا گیا۔
کسانوں کو زرعی مشینری کی فراہمی، 22 سمال ڈیمز کی کمانڈ ایریاز ڈویلپمنٹ، شعبہ زراعت کے گریجویٹس کو بلاسود قرضوں کی فراہمی، سٹوڈنٹس کو سکالرشپس اور مختلف اضلاع میں جوان مراکز کا قیام، مختلف تحصیلوں میں سپورٹس گراؤنڈز، ساؤتھ وزیرستان اپر، مہمند چترال اور بٹگرام میں سپورٹس کمپلیکسز کا قیام تجویز کیا گیا۔
باقی ماندہ تمام تحصیلوں میں ریسکیو 1122 سب اسٹیشنز کا قیام ، گنجان آباد علاقوں میں ریسکیو کی پوائنٹس کا قیام، موبائل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا قیام بھی تجویز کیا گیا ہے۔











