اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سحر کامران، رکنِ قومی اسمبلی، نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور اسلام آباد میں ہونے والے امن عمل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے باوجود دھمکیوں اور الٹی میٹمز سے اعتماد کی فضا مزید متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی باتیں نہ صرف خطے میں بے یقینی کو بڑھا رہی ہیں بلکہ مذاکراتی عمل کو بھی کمزور کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات کے بجائے سنجیدہ اور مستقل سفارتکاری ہی مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔
سحر کامران نے پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور مفاہمت کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی ثالثی کوششیں، خصوصاً بحری ناکہ بندی جیسے حساس معاملات پر، فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ یا دباؤ کی حکمت عملی کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔











