پی ٹی آئی،جے یوآئی کیسے قریب آئے؟شیر افضل مروت نے اندرکی بات بتادی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے تحریک انصاف اور جمیعت علمائے اسلام کے ایک پیج پر آنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ایک پریس کانفرنس سنی جس میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ وہ اپوزیشن میں بیٹھنا چاہتے ہیں، یہ بات پاکستان تحریک انصاف کے لیے خوش آئند تھی کہ جمعیت علما اسلام اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی،جے یو آئی اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں ، امید ہے کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی آئندہ جو بھی لائحہ عمل اپنائینگی وہ مشترکہ ہوگا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میںاظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف ماضی میں سخت بیانات دیتی رہی ہیں، ابھی ماضی میں عمران خان کے حوالے سے جمیعت علمائے اسلام نے سخت موقف اپنائے رکھاہے ،عمران خان نے ہمیں یہ سن کر کہا کہ اپ اگر ایسی بات ہے تو جمیعت علمائے اسلام کے ساتھ رابطہ کریں اور اپنی پریس کانفرنسز میں بھی جے یو آئی کا نام تاکید سے لیں اور اس کے بعد اسد قیصر کی ڈیوٹی لگائی کہ آپ ایک وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن سے ملیں اور اس کے بعد دونوں جماعتوں نے ایک ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے،

انہوں نے کہاکہ کل میں ڈیرہ غازی خان میں تھا اور میں نے مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس نہیں دیکھی تھی، بس سنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن اپوزیشن میں بیٹھنا چاہتے ہیں، یہ بات پاکستان تحریک انصاف کے لیے خوش آئند تھی کہ جمعیت علما اسلام اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی،

انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ سن کر بہت اچھا لگا ،یہ ساری باتیں ہم عمران خان کے نوٹس میں لائے تو عمران خان نے ہمیں یہ سن کر کہا کہ اپ اگر ایسی بات ہے تو جمیعت علمائے اسلام کے ساتھ رابطہ کریں اور اپنی پریس کانفرنسز میں بھی جے یو آئی کا نام تاکید سے لیں اور اس کے بعد اسد قیصر کی ڈیوٹی لگائی کہ آپ ایک وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن سے ملیں،

انہوں نے کہا کہ اج مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے عمران خان کا رویہ انتہائی خوش آئند تھا جس کی ہم توقع بھی نہیں کر رہے تھے،

شیر افضل مروت نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اگر الیکشن کے خلاف دھاندلی میں ہمارے احتجاج میں شامل ہونا چاہتی ہے تو ہم اس کو ساتھ ملائیں گے،

انہوں نے کہا کہ آج جو ہماری پارٹی کا وفد مولانا فضل الرحمن سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر گیا ہے، اس میں ہم نے یہ موقف اپنایا ہے کہ ایک ،دو سال قبل جب ہماری پی ٹی آئی کی حکومت کو چلتا کیا گیا تو اس وقت جنرل ریٹائر باجوہ نے اس میں اہم کردارادکاکیاتھا،

انہوں نے کہا کہ جنرل ریٹائر فیض حمید کے حوالے سے عمران خان کا موقف پہلے شاید کچھ اور تھا مگر اب ہم سب یہ کہتے ہیں جنرل(ر) فیض حمید نے بھی باجوہ کامکمل ساتھ دیا تھا ،باجوہ اور فیض نے پاکستان تحریک انصاف کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ،

انہوں نے کہاکہ جتنا نقصان جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے تحریک انصاف کو پہنچایا ،اتنا ہی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے پہنچایا ہے اور کسی بھی وقت مجھے عمران خان سے اجازت ملے گی تو میں اور بہت سے راز کھولوں گا،

ایک اور سوال کے جواب میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ جو بھی سیاسی پارٹی یا سیاسی قوت جو اس ایوان میں ایک آزادانہ رائے رکھتی ہے ان سے ووٹ مانگیں کیونکہ مولانا صاحب اب تک جو بات چیت کر رہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انہوں نے شہباز شریف سے بات کرنے سے مکمل انکار کر دیا ہے اور ان کا ساتھ بھی نہیں دیں گے ،لہذا اگر وہ اس موقف پر قائم رہتے ہیں تو ہماری بہت ساری چیزوں میں جمعیت علما اسلام کے ساتھ یکسانیت پیدا ہو جائے گی،

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں ، امید ہے کہ ہم دونوں کی جماعتیں ایک ہی موقف کے ساتھ سامنے آئیں گی۔

مزید خبریں