اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سائنسدانوں نے پہلی بار مرغی کے چوزے کو مصنوعی انڈے کے ذریعے دنیا میں لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اس پیشرفت سے ماضی میں معدوم ہو جانے والے 12 فٹ لمبے پرندے moa کو پھر سے واپس لانے میں مدد مل سکے گی۔
Colossal Biosciences نامی کمپنی نے بتایا کہ ایک کیپسول کے اندر زندہ چوزوں کے بننے کے عمل کو مکمل کیا گیا۔
اس کیپسول یا مصنوعی انڈے کے اوپر شیشہ موجود تھا جس سے سائنسدان اندر موجود چوزوں کی نشوونما کو چند ہفتوں تک مانیٹر کرتے رہے۔
اس امریکی کمپنی کی منیجر Paige McNickle نے بتایا کہ ‘جب مصنوعی انڈے سے چوزے کو نکالا گیا، تو وہ بہت حیرت انگیز تجربہ تھا’۔
اس ٹیکنالوجی کو بنیادی طور پر نیوزی لینڈ کے ساؤتھ آئی لینڈ میں ماضی میں رہنے والے Moa پرندوں کو پھر سے زندگی دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ان پرندوں کی نسل 1380 اور 1445 کے درمیان معدوم ہوگئی تھی۔
برطانوی جنگی جہاز خلیج عرب سے واپس روانہ، کشتیوں اور ڈرون ٹیکنالوجی سے سمندری نگرانی کا فیصلہ
ان پرندوں کے انڈے مرغی کے ایک انڈے کے مقابلے میں 80 گنا زیادہ بڑے ہوتے تھے۔
مصنوعی انڈے کی ٹیکنالوجی سے ان پرندوں کے بہت بڑے حجم کے بچوں کی نشوونما ممکن ہوسکے گی۔
کمپنی کے شریک بانی بین لام نے بتایا کہ اس طرح کے معدوم جانداروں کو پھر سے زندگی دینے کے لیے قدیم جینوم اور دیگر خلیاتی پراسیس ہی ضروری نہیں بلکہ ایسے سسٹم کی ضرورت بھی ہے جس میں ان کی نشوونما ممکن ہوسکے۔
اندے دیکھنے میں سادہ ہوتے ہیں مگر وہ اندر سے بہت زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں اور پرندوں کے جینن کی نشوونما کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
انڈوں کے چھلکے میں ہزاروں بہت ننھے سوراخ ہوتے ہیں جن سے آکیسجن آرپار ہوتی ہے جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نمی کا اخراج ہوتا ہے۔
ماضی میں بھی مصنوعی انڈوں کی تیاری کی کوشش کی گئی تھی مگر آکسیجن کی فراہمی میں سائنسدانوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا تھا۔
مگر اس نئی ٹیکنالوجی میں اس مسئلے پر قابو پالیا گیا۔











