هفته,  18 اپریل 2026ء
مانچسٹر: راچڈیل میں جعلی فنڈ ریزنگ اسکینڈل بے نقاب کرنے پر نمائندہ روشن پاکستان نیوز کو سنگین نتائج کی دھمکیاں

اسلام آباد / مانچسٹر (عرفان حیدر) فلاحی تنظیم سوشل اویئرنس ڈیویلپمنٹ ایمپاورمنٹ (SADE) سے متعلق تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ادارے کے پاس چیریٹی کمیشن پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رینول لیٹر موجود نہیں۔ مزید یہ کہ تنظیم اپنی ویب سائٹ کی تجدید کروانے کے لیے بھی مالی وسائل سے محروم ہے، جس سے اس کی ساکھ اور فعالیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ ایسے حالات میں بیرونِ ملک سرگرمیوں کا دعویٰ نہ صرف مشکوک ہے بلکہ پاکستان اور اوورسیز کمیونٹی کی بدنامی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، برطانیہ میں مقیم تنظیم کے بعض منتظمین نے نمائندہ روشن پاکستان نیوز کو رپورٹنگ سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے ہراسانی کے مقدمات کی دھمکیاں بھی دیں، جس پر صحافتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب، مانچسٹر کے علاقے راچڈیل میں حالیہ دنوں مبینہ جعلی فنڈ ریزنگ مہمات کے انکشاف نے مقامی کمیونٹی میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کچھ افراد اور گروپس سوشل میڈیا کے ذریعے خود کو فلاحی اداروں سے وابستہ ظاہر کر کے بیمار بچوں، ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے نام پر چندہ جمع کر رہے ہیں۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ عطیہ دینے کے بعد نہ تو انہیں کوئی باقاعدہ رسید دی جاتی ہے اور نہ ہی فنڈز کے استعمال سے متعلق شفاف معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ مزید تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض مہمات میں جعلی تصاویر اور پرانی ویڈیوز استعمال کر کے لوگوں کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔

سائبر ماہرین کے مطابق، یہ ایک منظم دھوکہ دہی نیٹ ورک ہو سکتا ہے جو مختلف شہروں میں سرگرم ہے۔ اس صورتحال پر کمیونٹی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی ہے۔

شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات:

  • کسی بھی چندہ مہم میں حصہ لینے سے پہلے ادارے کی رجسٹریشن کی تصدیق کریں
  • صرف مستند اور معروف فلاحی تنظیموں کو عطیات دیں
  • سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ اپیلوں سے گریز کریں
  • رقم دینے سے قبل باقاعدہ رسید یا ثبوت ضرور حاصل کریں

مقامی حکام نے بھی اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق، اس قسم کی دھوکہ دہی نہ صرف عوام کے مالی نقصان کا سبب بنتی ہے بلکہ حقیقی مستحقین کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، کیونکہ اس سے فلاحی سرگرمیوں پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔

کمیونٹی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی فنڈ ریزنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، سوشل میڈیا کی مؤثر نگرانی کی جائے اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے شہریوں کو ایسے فراڈ سے بچایا جائے۔

یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خیرات جیسے مقدس عمل کو بعض عناصر ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس کے تدارک کے لیے اجتماعی ذمہ داری اور احتیاط ناگزیر ہے۔

مزید خبریں