واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکا نے ایرانی جوہری پروگرام کی جاسوسی کے بدلے 20 ملین ڈالر انعام کا اعلان کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ‘ایوارڈ فار جسٹس’ نامی اس اعلان کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پر شیئرکیا ہے۔
سینٹ کام نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے افرادکو 20 ملین (2 کروڑ) ڈالر انعام کے ساتھ ممکنہ طور پرکسی دوسرے مقام پر منتقل ہونےکی سہولت بھی دی جائےگی۔
امریکا نے ایرانی جوہری پروگرام کی تنصیبات اور جوہری آلات کی معلومات مانگی ہیں۔ ساتھ ہی ایرانی ایٹمی سائنس دانوں اور ان کی نقل و حرکت کی معلومات بھی مانگی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں مزیدکہا گیا ہےکہ 2025 میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران یورینیئم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے جب کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے عموماً 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے، اس طرح 60 فیصد افزودگی جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار سطح سے صرف ایک مختصر تکنیکی مرحلہ پیچھے ہے۔
عراق کا امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین دینے سے انکار
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں لیکن وہ یورینیئم کو اتنی بلند سطح تک افزودہ کررہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق انعام کے اعلان کا مقصد امریکی قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ ہے۔
ردعمل میں بعض سوشل میڈیا صارفین نے لکھاکہ ‘یعنی امریکا نے اُس ایرانی نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے جنگ چھیڑی تھی جس کی معلومات ہی اس کے پاس نہیں ہیں’۔
سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا ہےکہ امریکا نے اس پیشکش کا اعلان اب کیوں کیا؟ جب جنگ شروع ہوئے تقریباً 8 ماہ گزر چکے ہیں۔











