اتوار,  09  اگست 2026ء
دھاندلی کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت آزاد کشمیر کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دے گی، چوہدری محمد یاسین

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سینئر پارلیمنٹرین چوہدری محمد یاسین نے حالیہ آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی عمل پر اثرانداز ہو کر عوام کے جمہوری مینڈیٹ پر شب خون مارا۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومت آزاد کشمیر کے پہلے سے سنگین سیاسی، معاشی اور انتظامی حالات کو مزید خراب کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پسند جماعت ہے اور اس نے ہمیشہ ذاتی مفادات کے بجائے جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو مقدم رکھا ہے۔ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ انتخابی ناانصافیاں ہوئیں، تاہم شہید قائد محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کی خاطر کم نشستیں ملنے کے باوجود اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انتخابی نتائج پر تحفظات کے باوجود جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور پارلیمانی نظام کے تسلسل کے لیے ایوان کا راستہ اختیار کیا۔

چوہدری محمد یاسین نے 2016 کے آزاد کشمیر انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی موجودہ چیف الیکشن کمشنر ہی اس منصب پر فائز تھے اور انتخابات کے نتائج مرتب ہونے سے قبل ہی نتائج آنا شروع ہوگئے تھے۔

ان کے بقول، ’’گنتی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ میرے سمیت چوہدری عبدالمجید کے ہارنے کا اعلان کردیا گیا، لیکن الیکشن کمشنر کی جانب سے اس پر کوئی تردید تک نہیں کی گئی۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں باقاعدہ رزلٹ فراہم کرنے سے بھی انکار کیا گیا اور صبح صادق کے وقت سادہ کاغذ پر نتیجہ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات انتخابی عمل کی تاریخ کا حصہ ہیں اور ان سوالات کا جواب آج بھی باقی ہے۔

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر نے کہا کہ 2016 میں بھی پیپلز پارٹی کو صرف تین نشستیں ملیں، تاہم قیادت کے حکم پر جمہوریت کی خاطر ایوان میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتارنے کی سیاست نہیں کی بلکہ ہر دور میں پارلیمانی نظام کے تسلسل اور عوام کے حق حکمرانی کے لیے جدوجہد کی ہے۔

حالیہ انتخابات کے حوالے سے چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مبینہ دھاندلی کے ٹھوس شواہد اور اپنے تحفظات متعلقہ فورمز کے سامنے پیش کیے، مگر تحقیقات کرانے کے بجائے متنازع حلقوں کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے۔

آزادکشمیر الیکشن: ایل اے 27 اور 28 کے نتائج، ایک حلقے میں ن لیگ اور دوسرے میں پی پی کامیاب

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’آخر اتنی جلدی کیا تھی کہ شکایات اور الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے؟‘‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’یہ چیف الیکشن کمشنر لایا ہی اسی مقصد کے لیے گیا تھا۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور عوام کے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و جمہوری فورم پر اپنا مقدمہ لڑے گی۔

چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ آزاد کشمیر پہلے ہی سیاسی، معاشی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں اگر دھاندلی کے الزامات سے گھری ہوئی حکومت وجود میں آتی ہے تو وہ عوام کو کیا ڈیلیور کرے گی؟ جس حکومت کی بنیاد ہی متنازع انتخابی عمل پر ہو، اس کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنا بڑا چیلنج ہوگا۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کے بجائے مزید انتشار کو ہوا دینا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر آزاد کشمیر کے وسیع تر مفاد، جمہوری اصولوں اور عوام کے حق رائے دہی کا تحفظ کرنا ہوگا۔

چوہدری محمد یاسین نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی انتخابی نتائج کے خلاف اپنے آئینی و جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔ پارٹی قیادت اور کارکنان عوام کے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے ووٹ کی حرمت پامال کرکے نہ حقیقی جمہوریت قائم کی جاسکتی ہے اور نہ ہی دیرپا سیاسی استحکام پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اگر سیاسی قوتوں نے عوام کے فیصلے کا احترام نہ کیا تو اس کے اثرات پورے آزاد کشمیر کے سیاسی مستقبل پر مرتب ہوں گے۔

مزید خبریں