اسلام آباد(کرائم رپورٹر)مارکیٹ میں نیافراڈ سامنے آگیا،جعلی عاملوں نے عوام کو لوٹنے کے نئے نئے حربے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں ،سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک کارڈ وائرل ہورہا ہے جس میں عامل حافظ محمد سعیدکاعمل اور فون نمبر درج ہے ،عامل نے شہریوں کو لوٹنے کیلئے محبوب کو تصویر کے ذریعے قابوپانے کالولی پاپ دے رکھا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق عامل سادہ لوح عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں، معاشرے میں غیر عقلی چیزوں اور توہم پرستی نے پیر جمالیے ہیں جدید دور میں بھی شہری جادو ٹونے کے سحر میں مبتلا ہیں، شہری اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈیں تعویز گنڈوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، روشن خیالی صرف تعلیمی ڈگریوں سے پیدا نہیں ہوتی، تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سوچ میں بھی توہم پرستی اور منافع بخش کارور بارکی صورت اختیار کرچکا ہے جو اپنی قسمت کو چمکانے سے قاصر ہیں وہ دوسروں کی زندگی میں خوشیاں نہیں بھرسکتے ہیں۔

عامل حافظ محمد سعیدنے شہریوں کو جھانسہ دینے کیلئے نیا حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے،عامل کے مطابق سمندر پار بیٹھے لوگ ان سے رابطہ کریں اور اگر جس سے محبت کرتے ہیں اس کی تصویر واٹس ایپ کریں،عامل دم کرے گا اور محبوب آپ کے قدموں میں ہوگا۔
پیشہ ورعامل سادہ لوح عوام کی نفسیات سے کھیلنے لگے، خواتین جعلی عاملوں کا زیادہ شکار بننے لگیں، عامل کا آستانہ کھولنا منافع بخش کاروبار بن گیا۔
یادرہے کہ حکومت جعلی عاملوں اور جعلی پیروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کررہی،شہریوں نے کہا ہے کہ تعویز گنڈوں سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں ،لوگ کامیابی کے حصول کے لیے شارٹ کٹ راستہ نکالتے ہیں، عاملوں کے حوالے سے وال چکنگ میں طنز و مزاح کا عنصر نمایاں ہوتا ہے ،جس میں عوامی مسائل کے حل کے لیے بلندوبانگ دعوے کیے جاتے ہیں، عوام کے ذہن کو کھولنے کے لیے نصابی کتب کا مطالعہ ناکافی ہے تعلیم یافتہ نوجوان نسل کی سوچ میں تو ہم پرستی اور خاندانی اثرات نمایاں ہیں، جعلی عامل لوگوں کا استحصال کررہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:بشام میں دہشتگردی کاواقعہ بزدلانہ فعل تھا،وزیراعظم شہبازشریف
حکومت اور انتظامیہ کو جعلی عاملوں اور پیروں کی بڑھتی سرگرمیوں اور شعبدے بازیوں پر نظر رکھنی چاہیے، تاکہ شہریوں کی جان، مال،عزت اور آبرو ایسے مکار عاملوں سے بچ سکے، شہری اپنا ایمان نہ گنوائیں، پولیس اور انتظامیہ جعلی عاملوں اور پیروں کے سیاہ کرتوت اور شعبدے بازیوں کا پردہ چاک کریں، حکومت کو جعلی عاملوں اور پیروں کی منفی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کیلیے قانون سازی کرنی چاہیے ، قانون کی موجودگی میں جعلی عامل شہریوں کو نہیں لوٹ سکیں گے اور منفی سرگرمیوں سے اجتناب برتیں گے ، عامل یا پیر کو آستانہ کھولنے کے حوالے سے سند یا لائسنس کا اجراح کیا جائے تاکہ جعلی عامل عوام کو بے وقوف نہ بنا سکیں۔
معاشرے میں غیر عقلی چیزوں اور توہم پرستی نے پائوں جمالیے ہیں جدید دور میں بھی انسان جادوٹونہ کے سحر میں مبتلا ہیں تعلیم اور روشن خیالی صرف ڈگریوں سے پیدا نہیں ہوتی اس کے لیے روشن خیالانہ کتب کا مطالعہ کرنا ہوگا اور جدیدیت کی تعلیم کو عام کرنا ہوگا نوجوان نسل کو روشن خیال لوگوں کے بحث ومباحثہ میں شرکت کرنا ہوگی ۔











