








سید شہریار احمد تحریر: ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کیا آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے ؟ کوئی نعمت ہمیں راحت نہیں دیتی کوئی خوشی باعث سکون نہیں ہے آپ نے یہ مثال تو سن رکھی ہوگی دل خون کے آنسو روتا ہے میں نے بھی سن رکھی تھی۔ آپ

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ میری جینے کی تیاری تو دھری رہ گئی آج میں آپ کو پھر ایک اور دلچسپ بات بتانے جاتا ہوں۔ یہ بات بھی ذرا ہٹ کر ہے۔ کیا کبھی آپ لوگوں نے یہ سوچا ہے کہ آپ ساری زندگی صرف جینے کی تیاری

دو حرف / رشید ملک میں کسی رنج و الم میں روتے ہوئے دیدہ نم سے جو قطرے گراتا تھا وہ جواہرات گراں قدر یاقوت وصدف بنتے تھے مگر یہ کیا کہ آج اتنی بے بسی ہے انکھ کا پانی خشک ہو چکا ہے چشم نم کی یہ خشکی ایک

کالم: میں اور میرا دوست ( بسنت) زندگی میں کئی موضوع ایسے ہوتے ہیں جن پر دوستوں کے درمیان اختلاف بھی ہوتا ہے اور دلچسپ گفتگو بھی۔ بسنت بھی میرے اور میرے دوست کے درمیان ایسا ہی ایک موضوع ہے۔ وہ بسنت کا زبردست حامی ہے جبکہ میں ہمیشہ اس

تحریر: عدیل آزاد کچھ واقعات تاریخ میں اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ وہ صرف قانون کو نہیں بلکہ انسانی ضمیر کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز بھی انہی واقعات میں سے ایک ہیں۔ یہ معاملہ محض چند طاقتور افراد کے جرائم کا نہیں، بلکہ

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ یہ خدا ہے یا پولیس ؟ ڈرتے کیوں ہو آج میں تمہیں ایک بہت ہی کڑوی مگر ضروری بات بتانے جاتا ہوں تم لوگ خواہ کسی بھی مذہب سے ہو، تم ہندو ہو عیسائی ہو یا مسلمان تم لوگ کہتے ہو کہ تم

دوستی محض وقت گزارنے کا نام نہیں ہوتی، یہ خیال کی ہم سفری، فکر کی ہم آہنگی اور دل کی ہم کلامی کا نام ہے۔ کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ گفتگو محض بات چیت نہیں رہتی بلکہ ایک فکری سفر بن جاتی ہے۔ میرا ایک ایسا ہی

کمرسر کی افق سے تحریر: محمد مدثر حسین خٹک شاعر حضرات کہتے ہیں کہ برسات کا موسم رومانوی ہوتا ہے، بادلوں کا امڈ آنا دلوں میں خوشی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو اس شاعری کا اصل “بھیانک” رخ دیکھنا ہو تو کبھی برسات کے موسم میں

کمرسر کے افق سے تحریر: محمد مدثر حسین خٹک (ای میل: mudasserhussain890@gmail.com) آج جب ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں سانس لے رہے ہیں، دنیا ایک “گلوبل ولیج” کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کا یہ عالم ہے کہ انسان چاند سے آگے مریخ

دوحرف/رشید ملک نئے سال کی آمد پر دنیا بھر میں جشن اور چراغاں بڑے جوش و خروش سے کیا گیا برقی قمقموں کی چکا چوند میں یوں لگ رہا تھا کہ پوری دنیا پر بقعہ نور اتر آیا ہے۔ دنیا خوشیوں اور شدمانیوں کی لہروں پر عازم موج و مستی