موجودہ ٹیکس نظام قانون کی پاسداری کرنے والے شعبوں اور شہریوں کو سزا دے رہا ہے، انور کاشف ممتاز

عوام کی آمدنی صرف دگنی ہوئی جبکہ اخراجات دس گنا بڑھ گئےجسےخوشحالی نہیں کہا جا سکتا،مریم ایوب

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ٹیکس پیئرز الائنس آف پاکستان (ٹی پی اے پی) کےقومی کنوینر انور کاشف ممتاز نےآئندہ مالیاتی سال 27-2026ء کے بجٹ کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہاراور موجودہ یکطرفہ ٹیکس پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ موجودہ ٹیکس نظام ملک میں ٹیکسوں کو منصفانہ بنانے کے بجائے قانون کی پاسداری کرنے والے شعبوں اور شہریوں کو سزا دے رہا ہے، ملک کو چلانے کے لیے ٹیکسوں کی ادائیگی بلاشبہ ضروری ہےلیکن حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے انہی چند دستاویزی لوگوں کو بار بار نچوڑ رہی ہے،ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو عزت اور احترام دیا جانا چاہیے،قانون ساز اکثر اپنے شاہانہ اخراجات کو چھپانے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائطکا بہانہ بناتے ہیں، جو کہ حقیقت کے برعکس ہے،انہوں نے ان خیالات کا اظہار تنظیم کے جنرل سیکرٹری سید علی احسان اور پرائم انسٹی ٹیوٹ کی معاشی محقق مریم ایوب کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیکسوں کی شرح انتہائی زیادہ اور غیر منصفانہ ہے۔ تنخواہ دار طبقے اور ذاتی کاروبار کرنے والے افراد کو براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کا سامنا ہے۔ 25 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 70 لاکھ افراد ٹیکس دہندگان کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے انہی چند دستاویزی لوگوں کو بار بار نچوڑ رہی ہے۔ اس پالیسی نے کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے اور کاروباری برادری نقد رقم پر مبنی غیر دستاویزی معیشت کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہو رہی ہے۔”انور کاشف ممتاز نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو گزشتہ 11 مہینوں میں 868 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو شارٹ فال (خسارے) کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خسارہ ثابت کرتا ہے کہ شہریوں کو بے جا نوٹس بھیج کر ہراساں کرنے کا طریقہ کار مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ آئین پاکستان یہ ضمانت دیتا ہے کہ ملک ایک فلاحی ریاست ہوگا، مگر ٹیکس دہندگان کو صحت، تعلیم یا اچھے بنیادی ڈھانچے جیسی بنیادی ترین سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ قانون ساز اکثر اپنے شاہانہ اخراجات کو چھپانے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائطکا بہانہ بناتے ہیں، جو کہ حقیقت کے برعکس ہے۔پرائم انسٹی ٹیوٹ کی معاشی محقق مریم ایوب نے حکومت کے ان دعووں کو یکسر مسترد کر دیا جس میں مالیاتی سال 2024-25ء کے دوران 11.74 ٹریلین (گیارہ اعشاریہ سات چار کھرب) روپے کے ریکارڈ ٹیکس جمع کرنے پر فخر کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ریکارڈ وصولی غریب اور متوسط خاندانوں پر بوجھ ڈال کر حاصل کی گئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کاغذات پر یہ دکھایا گیا ہے کہ پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی 2018-19ء کے 41,545 روپے سے تقریباً دگنی ہو کر 2024-25ء میں 82,179 روپے ہو گئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی گزارنے کی اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔ اس عرصے کے دوران مکانات کے کرایوں میں 500 سے 700 فیصد، بجلی کے بلوں میں 800 سے 1500 فیصد، پٹرول کی قیمتوں میں 260 سے 340 فیصد اور گندم کے آٹے کی قیمت میں 300 سے 450 فیصد کا ہولناک اضافہ ہوا۔ متوسط طبقے کے خاندان کے اخراجاتِ زندگی جو 2010ء میں 20,000 سے 40,000 روپے تھے، وہ 2026ء میں بڑھ کر 1,20,000 سے 3,50,000 روپے ماہانہ تک پہنچ چکے ہیں۔ عوام کی آمدنی صرف دگنی ہوئی جبکہ زندگی گزارنے کی لاگت دس گنا تک بڑھ گئی۔ اسے کسی صورت خوشحالی نہیں کہا جا سکتا۔”پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا تقریباً 55 فیصد بالواسطہ ٹیکسوں جیسے سیلز ٹیکس اور ایندھن کے لیوی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ٹیکس امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ملک کے غریب ترین 60 فیصد خاندان اپنی محدود آمدنی کا 64 سے 67 فیصد حصہ صرف ان بنیادی ضرورت کی اشیاء پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہایک طرف جہاں عام عوام بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں، وہیں بااثر صنعتوں اور امیر افراد کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ حکومتی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ مالیاتی سال 24-2023ء میں ٹیکس چھوٹ اور خصوصی رعایتوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 2,434 ارب روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ زرعی شعبہ ملکی معیشت (جی ڈی پی) کا 23 فیصد ہونے کے باوجود قومی ٹیکسوں میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے۔ مزید برآں، مالیاتی سال 2024-25ء میں اعلیٰ سرکاری افسران کو 120 ارب روپے کی ٹیکس فری مراعات فراہم کی گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 19 کروڑ 60 لاکھ موبائل صارفین موجود ہیں، لیکن ان میں سے صرف 29 فیصد لوگ ہی انٹرنیٹ استعمال کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل خدمات پر مجموعی طور پر 34.5 فیصد ٹیکس نافذ ہے، جبکہ اسمارٹ فونز کی درآمد پر 50 فیصد سے زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ یہ غیر منصفانہ ٹیکس ملک کے نوجوان فری لانسرز اور ڈیجیٹل ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ٹی پی اے پی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ٹیکس کی شرحوں کو فوری طور پر کم کیا جائے، ایف بی آر کی جانب سے بھیجے جانے والے غیر ضروری آڈٹ نوٹسز کا سلسلہ بند کیا جائے، عوامی فنڈز کے اخراجات میں مکمل شفافیت لائی جائے، اور ٹیکس گوشوارے خود جمع کرانے کے نظام کو سادہ اور آسان بنایا جائے۔ ٹی پی اے پی کے سیکرٹری جنرل اور پرائم انسٹی ٹیوٹ کے چیف ڈیویلپمنٹ آفیسر سید علی احسان نے کہا کہ حکومت کو تمام تر مالیاتی بوجھ صرف قانون کی پاسداری کرنے والے مٹھی بھر رجسٹرڈ شہریوں پر ڈالنے کے بجائے اپنے شاہانہ سرکاری اخراجات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور عوامی فنڈز کے فضول ضیاع کو فی الفور روکنا چاہیے۔

مزید خبریں