اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان اس وقت ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور جنگ بندی کو ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے۔ اس توسیع کی کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیابی کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔
پاکستانی قیادت مسلسل امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ایک “پل” کا کردار ادا کر رہی ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت ممکن بنائی جا سکے اور غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔
اسلام آباد میں ایران کے سفیر سے وزیراعظم کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کا مقصد مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔
دوسری جانب، امریکا کو ایران کی جانب سے مذاکرات پر خاموشی کا سامنا ہے، جس کی وجہ ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات بتائی جا رہی ہے—خاص طور پر یورینیم افزودگی جیسے حساس معاملات پر۔
امریکی چینل کی ٹیم پر حملے کے بعد اسرائیلی آرمی چیف کا ایکشن، پوری فوجی بٹالین معطل کر دی
اس صورتحال میں، صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے بجائے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ سفارتی حل کی گنجائش باقی رہے۔
تاہم، ایرانی حکام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، اور انہوں نے امریکی اقدامات کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے ممکنہ فوجی ردعمل کی بات بھی کی ہے۔











