هفته,  07 نومبر 2026ء
نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں‌ پر سیلز ٹیکس بڑی خوشخبری آگئی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی وزیر برائے اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکلز کو بڑی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات برائے نشریات عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز ماحول کے لیے بڑی مفید ہیں، چاہتے ہیں عام آدمی کو سستی ٹرانسپورٹ کی سہولت ملے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے امپورٹ بل سے نجات حاصل کرنی ہے، شہریوں کو معیاری گاڑی کی دستیابی یقینی بنائیں گے، ہر شہری کو سستی ٹرانسپورٹ ملے گی، مہنگائی میں ضرور کمی آئے گی۔

عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے پروٹیکشن والی پالیسیاں نافذ ہیں، چاہتے ہیں عام آدمی کو سہولت ملے، ہماری بہنیں الیکٹرک بائیکس پر سفر کرتی ہیں۔

مشیر وزیراعظم برائے صنعت و تجارت ہارون اختر نے کہا کہ الیٹرک وہیکلز پر فنانسنگ میں وزیراعظم نے بریک دی ہے، الیکٹرک گاڑیوں کی فنانس پر 30 لاکھ کی لمٹ ہے اور تین سال میں ادائیگی کرنی ہوتی ہے، یہ فنانس اب 10 ملین پر کررہے ہیں اور اس کی ادائیگی تین سے پانچ ہوگی۔

آسان اقساط میں اسمارٹ فونز دینے کی پالیسی! عوام کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

انہوں نے کہا کہ پچاس ہزار ڈالر لگژری میں آتی ہے لیکن ڈیوٹی بریک ان کو بھی ملے گی۔ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ کے لیے چارجز اسٹیشنز لگانے کے لیے کام کررہے ہیں۔

مشیر نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی تین کیٹیگری ون، تھری اور نائن فیصد ہوں گی۔

پارون اختر نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت لگژری کے علاوہ دیگر تمام گاڑیاں سستی ہوں گی اور پالیسی میں لوکلائزیشن پر فوکس ہے،  اس حوالے سے ایکسپورٹ ٹارگٹ دیا جائے گا اور پہلے سال 5 فیصد ریوارڈ دیا جائے گا۔

مشیر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نئی آٹو پالیسی کی عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے منظوری ہونا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آٹو پارٹس مینجوفکچررز کو ایکسپورٹ کا موقع دیا جائے گا جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکلز کا فروغ بڑھ رہا ہے۔

مزید خبریں