منگل,  03 نومبر 2026ء
آبپارہ مارکیٹ میں مبینہ ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ ’منتھلی‘ کے عوض غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کو تحفظ دینے کا انکشاف

اسلام آباد( راجہ اسرار حسین) سی ڈی اے کی جانب سے آبپارہ مارکیٹ سے مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ منتھلی وصولی کے بعد غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کو تحفظ فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

سروے کے مطابق آبپارہ مارکیٹ کے برآمدوں،فٹ پاتھوں پر غیر قانونی تجاوزات مافیا نے پنجھے گاڑھ رکھے ہیں پیدل آمد و رفت اور خریداروں کو مشکلات کا سامنا ہے خصوصاً خواتین کو خریداری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ناجائز تجاوزات مافیا کی جانب سے خریداروں کے ساتھ ناروا سلوک بھی معمول بن چکا ہے۔

 اسلام آباد: شاہ اللہ دتہ میں سی ڈی اے کی 898 کنال اراضی پر قبضے کا انکشاف

علاوہ ازیں سی ڈی اے بائی لاز کی دھجیاں اُڑتے ہوئے مارکیٹ میں درجنوں غیر قانونی دکانیں بھی قائم کر لی گئی ہیں جن سے ماہانہ لاکھوں روپے کرایہ وصولی بھی جاری ہے تاہم اس کا تعین نہیں ہو سکا کہ مذکورہ رقم قومی خزانے میں جارہی ہے یا نہیں دوسری جانب مارکیٹ کی چھتوں پر بھی قبضہ مافیا نے پنجھے گاڑھ رکھے ہیں اور بڑے پیمانے پر تعمیرات قائم ہو چکی ہیں جہاں رہائشیں،گودام اور کچن چلائے جا رہے ہیں۔حیران کن امر یہ بھی ہے کہ بنگالی پراپرٹی کی دکانیں چند ماہ قبل سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول نے سربمہر)سیلڈ( کر دی تھیں لیکن چند دن بعد دوبارہ ڈی سیلڈ کر دی گئی ہیں عوامی حلقوں نے سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول،ڈی ایم اے،انفورسمنٹ کی کارکردگی کو مایوس کُن قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آبپارہ مارکیٹ کو غیر قانونی تعمیرات مافیا،ناجائز تجاوزات مافیا اور قبضہ مافیا سے فوری واگزار کرایا جائے اور اس میں ملوث سرکاری و نجی کرداروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن کے لیے بھی آبپارہ مارکیٹ ایک ٹیسٹ کیس بن چکی ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ چئیرمین سی ڈی اے اور ایف آئی اے اینٹی کرپشن کیا کاروائی عمل میں لاتے ہیں۔

مزید خبریں