ملتان(روشن پاکستان نیوز) ملتان میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کی گاڑی تلے کچل کر ہلاکت کے مقدمے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کی بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاکت نے تفتیش کے طریقۂ کار، مقدمے کی منتقلی اور پولیس حراست سے ملزم کے فرار ہونے کے معاملے پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، تاہم اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے بغیر تمام سوالات کا جواب ملنا ممکن نہیں۔
مقدمہ سی سی ڈی کو منتقل کرنے کا قانونی طریقۂ کار کیا ہے؟
پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو مقدمات کی تفتیش منتقل کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ دستیاب قانونی متن کے مطابق، پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 18 سی کے تحت صوبائی پولیس سربراہ کسی بھی مقدمے کی تفتیش سی سی ڈی کو منتقل کرسکتا ہے۔ اسی طرح سی سی ڈی کے سربراہ کی درخواست پر بھی مقدمہ منتقل کیا جاسکتا ہے۔ مخصوص درج شدہ جرائم کے معاملات میں سی سی ڈی کی باضابطہ درخواست پر مقدمے کا ریکارڈ، مالِ مقدمہ اور گرفتار ملزم متعلقہ سی سی ڈی تھانے کے حوالے کرنے کی شق بھی موجود ہے۔
اس لیے یہ معاملہ محض اس سوال تک محدود نہیں کہ مقدمہ سی سی ڈی کو منتقل کیوں کیا گیا، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ منتقلی کس قانونی شق کے تحت ہوئی، درخواست کس افسر نے دی، منظوری کس نے دی اور اس کی تحریری وجوہات کیا تھیں؟ ان سوالات کا حتمی جواب متعلقہ درخواست، منتقلی کے حکم اور سرکاری ریکارڈ سے ہی سامنے آسکتا ہے۔
ملزم کی منتقلی پر افسران کے مؤقف میں فرق
ذرائع کے مطابق، ملتان میں ہونے والی ایک میٹنگ میں سی سی ڈی افسران نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ توقیر نذیر کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور مقدمہ ہائی پروفائل کیس کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں لاہور میں سی سی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر کی مداخلت سے معاملہ آگے بڑھا۔
دوسری جانب سی پی او ملتان اختر فاروق کے حوالے سے بتایا گیا کہ مقدمہ سی سی ڈی کی درخواست پر منتقل کیا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی طاہر مجید کا کہنا ہے کہ 17 نوعیت کے سنگین جرائم محکمے کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم ایس او پیز کے تحت فی الحال 6 سے 7 اقسام کے جرائم پر کام کیا جارہا ہے۔
تاہم، دستیاب عوامی رپورٹوں میں توقیر نذیر کے مقدمے کی منتقلی کی اصل درخواست، متعلقہ اعلیٰ افسر کی منظوری اور تحریری وجوہات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ منتقلی کسی غیرقانونی دباؤ یا ذاتی مداخلت کے نتیجے میں ہوئی۔
پولیس حراست سے فرار اور مبینہ مقابلہ: اہم سوالات
ڈان اور دی نیوز کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق، توقیر نذیر کو ملتان میں گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اسے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پولیس کے مطابق، وہ دورانِ حراست فرار ہوگیا اور بعد میں بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔ سی سی ڈی حکام کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے موٹر سائیکل سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کی تو فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور توقیر اپنے ساتھی کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔
اس واقعے میں چند بنیادی سوالات کے جواب ضروری ہیں:
-
جسمانی ریمانڈ پر موجود ملزم پولیس حراست سے کیسے فرار ہوا؟
-
ملتان سے بہاولپور پہنچنے تک ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ کیوں نہ لگایا جاسکا؟
-
مبینہ مقابلے کے مقام سے ملنے والے خول، اسلحے، گولیوں اور دیگر فرانزک شواہد کی آزادانہ جانچ ہوئی یا نہیں؟
-
کیا جائے وقوعہ کی مکمل ویڈیو، پولیس ٹیم کی نقل و حرکت اور متعلقہ اہلکاروں کے بیانات کا غیرجانب دارانہ جائزہ لیا گیا؟
-
کیا حراست سے فرار ہونے کے واقعے اور مبینہ مقابلے، دونوں کی الگ الگ تحقیقات کی جائیں گی؟
ان سوالات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ملزم کی ہلاکت کے بعد اس مقدمے میں عدالتی کارروائی کے ذریعے شواہد کا جائزہ لینے اور ممکنہ دیگر ذمہ داران کا تعین کرنے کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔
جرم میں کمی یا پولیس کارروائیوں میں شفافیت؟
جرائم کی روک تھام میں کسی بھی پولیس ادارے کی کارکردگی کا جائزہ صرف گرفتاریوں یا مبینہ مقابلوں کی تعداد سے نہیں لیا جاسکتا۔ اس کے لیے مقدمات کے اندراج، جرائم کی شرح، تفتیش کے معیار، عدالتی سزاؤں، برآمدگیوں اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق مستند اعدادوشمار ضروری ہیں۔
اگرچہ سی سی ڈی کی کارکردگی اور جرائم میں کمی کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اس مخصوص معاملے میں جرم کی شرح میں کمی کی مقدار ثابت کرنے کے لیے متعلقہ مدت کے تقابلی سرکاری اعدادوشمار درکار ہیں۔ اسی طرح یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ جرائم میں کمی قانونی تفتیش، مؤثر گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں سے حاصل ہوئی یا اس کے دعوے کسی دوسرے پیمانے پر مبنی ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی اس واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نوعمر لڑکے کا قتل اور مرکزی ملزم کی مبینہ مقابلے میں ہلاکت ریاستی اقدامات، قانونی تحفظ اور شفاف تحقیقات سے متعلق فوری سوالات اٹھاتے ہیں۔ کمیشن نے آزادانہ تحقیقات اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انصاف کا تقاضا: شفاف تحقیقات اور جواب دہی
وسیم عباس کی ہلاکت ایک سنگین واقعہ تھا، جس کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا ملنا ضروری تھا۔ لیکن کسی ملزم پر سنگین الزام ہونا اسے قانونی کارروائی اور منصفانہ سماعت کے حق سے محروم نہیں کرتا۔ اسی طرح پولیس کو حراست سے فرار ہونے والے ملزم کے معاملے میں اپنی کارروائی کی مکمل وضاحت دینا ہوگی۔
اب اہم مطالبہ یہ ہے کہ مقدمے کی سی سی ڈی کو منتقلی کا حکم، درخواست گزار افسر کا نام، منظوری دینے والے حکام کی تفصیلات، حراست سے فرار ہونے کی وجوہات اور مبینہ مقابلے کے فرانزک شواہد سامنے لائے جائیں۔ شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہی واضح کرسکتی ہیں کہ قانونی تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں اور کسی اہلکار کی غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ تو موجود نہیں۔
قانون کی عمل داری کا اصل امتحان یہی ہے کہ سنگین جرم کے ملزم کو بھی عدالت میں جواب دہ بنایا جائے اور پولیس کی ہر کارروائی کو بھی قانون اور شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔











