قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت،مرکز فضیلت، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں نور محفل بسلسلہ جشن عید میلاد النبیﷺ کا انعقاد
تحریر:سید مبشر حسین شاہ کا کا خیل
اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کا میلاد سب سے پہلے خود منایا ہے۔علمائے جمہور کااس بات پر اجماع ہے۔مملکت خدادا د اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کایوم ولادت باسعادت وبابرکت بڑی عقیدت، محبت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔فقہ حنیفہ کے پیرکاروں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ محفل میلاد کے اس بابرکت سلسلے کو بڑی عزت و ادب کے ساتھ مناتے ہیں۔اس فقہ کے پیروکار براعظم ایشیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سائمن کمشن رپورٹ کے خطہ پاک و ہند کو براعظم تسلیم کیا گیا ہے۔ سائمن کمشن کی رپورٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شاعر مشرق،مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اسی رپورٹ کے حوالے معرکہ آرا خطبہ الہ آباد پیش کیا تھا، جو تحریک پاکستان کا بنیادی محور ہے۔قیام پاکستان سے لے کر ابھی تک اسی رپورٹ پر عمل درآمد ہو رہاہے۔ایشیا کی تاریخ پر ڈاکٹر ساجد محمود اعوان، ڈائریکٹر دفتر ہذا نے،چار جلدوں پر ایشین ہسٹری مرتب کی ہے۔
یہ بات روح افزا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اکیس اکیس توپوں کی سلامی سے اس مبارک دن کا آغاز کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ عصری اجتہاد ہے۔عصری اجتہاد کے ضمن میں اقبال نے فکری رہنمائی اور عملی سیاست میں اجتہاد کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔یہ وطن مصطفی کریم کی نگاہ کرم کا فیض ہے۔یہ مبارک سلسلہ ان شا اللہ تاقیامت جاری رہے گا۔حلیمہ سعدیہ منگلوری کے مطابق آپ کی ولادت مبارک پر سب سے پہلے قصیدہ اور اشعار خلیفہ چہارم سیدنا علی المرتضی کے والد محترم حضرت خواجہ ابو طالب نے لکھے اور خواتین میں بی بی سیدنا آمنہ پاک نے لکھے۔
حدیث قدسی کے مطابق اللہ رب العز ت نے فرمایا کہ اگر میں نبی مکرم کو پیدا نہ فرماتا تو کائنات کو پیدا نہ فرماتا۔
قطب الاقطاب سید کستیر گل، المعروف شیخ احمکار کاکا صاحب، جن کی تمام عمر رسول مکرم کی اطاعت و محبت میں گزری، اپنی حیات مبارکہ میں بھی اپنے مریدین و معتقدین کو سیرت نبوی پر کاربند رہنے کی ہدایت فرماتے۔ سرپرست اعلی زیارت کاکا صاحب، فیروز جمال شاہ کاکا خیل بھی، میلاد رسول مکرم کا انعقاد کرتے ہیں۔
شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں: نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مقام و مرتبہ تا قیامت بلند رہے گا۔
دور حاضر کے مشہور محقق اور سیرت نگار، کیرن آرمسٹرانگ نے اپنی کتاب محمد، بائیو گرافی آف دی پرافٹ، نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یوں خراج تحسین پیش کیا ہے کہ آپ کی حیات طیبہ نہ صرف مذہبی اہمیت کی حامل ہے، بلکہ روحانی، اخلاقی، سائنسی، عمرانی، اور نفسیاتی معاملات میں بھی بھٹکتی انسانیت کی رہنمائی کرنے کا جوہر رکھتی ہے۔ بڑے بڑے فلاسفر، سائنسدان، حکیم، اس وقت تک نجات نہیں پا سکتے، جب تک آپ کے اسوہ حسنہ کو مشعل راہ نہ بنا لیں۔
بہ زبان شاعر: جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا، اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا، وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے علم حاصل کرنے پر بلاتخصیص مرد و زن، بہت زیادہ زور دیا ہے۔اس لیے مسلمانوں کے ہاں، سب سے زیادہ سائنس دان اور فلسفی پیدا ہوئے۔ بعد ازاں امت مسلمہ اجتہاد سے دوری کے باعث انتشار کا شکار ہو گئی۔ اقبال نے یورپ کی یونیورسٹیوں میں کتابوں کو دیکھا، اور یوں فرمایا:
جو دیکھوں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے، سیپارہ
کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے نیشنل بک فاونڈیشن نہایت جانفشانی سے کام کر رہا ہے۔ مراد صاحب، اور ان کی ٹیم نعیم صاحب، اور قمر صاحب بہت محنت کر رہے ہیں۔ تمام پیر خانوں کو کتاب کلچر کی طرف دھیان دینا چاہیے اور دفتر ہذا کی کتب جو کہ انتہائی اہم موضوعات پر اور مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں، اپنے خانقاہوں کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ علم و دانش کو فروغ ملے۔ علمائے کرام کو بھی اپنے مدارس میں دفتر ہذا کی کتب سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اب یہ پاکستانی قوم اپنی حقیقی آزادی کی طرف سفر کر رہی ہے۔اس قوم نے مشکل حالات میں الحمدللہ ایٹمی قوت حاصل کی، جس پر بلاشبہ تمام پاکستانی سائنسدان خراج تحسین کے مستحق ہیں۔پاکستان کی جغرافیائی حالات کو دیکھتے ہوئے، مقتدرہ کوبندرگاہوں کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اللہ رب العزت، پاکستان کی بحری، بری، اور فضائی اور تمام قومی ادارے جو اس کی حفاظت پر مامور ہیں، ان کی حفاظت فرمائے۔ آمین اور پاکستان کو تا قیامت زندہ و جاوید رکھے۔
احمد ندیم قاسمی کی دعا کو رب تعالی باریاب کرے:
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
ڈاکٹر ساجد محمود اعوان، ڈائریکٹر قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت،مرکز فضیلت، قائداعظم یونیورسٹی کی باضابطہ منظوری سے17،ستمبر 2026 بروز جمعرات، انچارج میلاد کمیٹی ڈاکٹر فرح گل بقائی سینئر ریسرچ فیلو کی زیر صدارت عید میلاد النبیﷺ کے سلسلہ میں ایک عالی شان محفل منعقد کی گئی۔ راقم الحروف نے تلاوت کلام پاک سے محفل کا آغاز کیا۔راؤ طاہر حسین نے نقابت کے فرائض سرانجام دیے، اور نعت رسول مقبول پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔مہمان نے نعت اور منقبت پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔
ڈاکٹر اختر رسول بودلہ نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں اللہ کے رسول کی سیرت کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں سرخ رو ہو سکیں۔ڈاکٹر فرح گل بقائی صاحبہ نے ایک نظم کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے اللہ اور بندے کے تعلق کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کیا۔ ڈائریکٹراین آئی ایچ سی آر، ڈاکٹر ساجد محمود اعوان نے سیرت طیبہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود اللہ کے رسول کی روشن اور پاک تعلیمات کی پیروی میں ہے۔
مراہ العارفین انٹرنیشنل کے مطابق: میلاد شریف کے سلسلے میں قائداعظم محمد علی جناح نے جشن عیدمیلاد نبی کی ایک تقریب میں کراچی میں ۵۲ جنوری، ۸۴۹۱ کو کچھ یوں کہا:
میں ایک حقیر آدمی اس عظیم المرتبت شخصیت کو کیا خراج عقیدت پیش کر سکتا ہوں۔ رسول مکرم ایک عظیم رہبر تھے۔ آپ ایک عظیم قانون عطا کرنے والے تھے۔ آپ ایک عظیم مدبر تھے۔ آپ ایک عظیم فرمانروا تھے۔
حلیمہ سعدیہ منگلوری اپنی محققانہ تصنیف نعتیہ شاعری کے فروغ میں نعت رنگ کی خدمات میں صبیح رحمانی کے حوالے سے بیان کرتی ہیں:
نعت ہم پر کاروبار حیات کو سہل بناتی ہے۔ حضور کریم انسانیت کا نکتہ معراج اور دائمی سمت نما ہیں۔ اور نعت ہی ان کا تخلیقی تذکرہ ہے۔ یہ وہ ذکر ہے جو نہ صرف ہماری مولانا محمد علی جوہر نے کیا خوب کہا ہے:
جب اپنی پوری جوانی پر آ گئی دنیا
تو زندگی کے لیے آخری نظام آیا
ڈاکٹر طاہر فاروقی اپنی کتاب اقبال اور محبت رسول، میں لکھتے ہیں۔
جہاں کہیں بھی اللہ رب العزت کی مخلوق موجود ہے، اور جہاں جہاں دنیا آبا دہے، وہ ہمیشہ نور مصطفوی کی تلاش میں ہے، تاکہ وہ اس مقدس اور برگزیدہ ذات مبارکہ سے اکتساب فیض حاصل کر سکے۔ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اس کو یوں لکھتے ہیں:
ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
آں کہ از خاکش بروید آرزو
یا زِ نورِِ مصطفیٰ اُو را بہاست
یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفیٰ ست
اور اقبال کا یہ شعر تو دل کی تختی پر رقم ہے:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
امام احمد رضا بریلوی کے لکھے درود و سلام پر محفل کا اختتام ہوا۔
بعد ازاں تمام شرکاء نے درود و سلام کا نذرانہ بحضور سرورکائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش کیاگیا۔محفل کے اختتام پر انچارج میلاد کمیٹی ڈاکٹر فرح گل بقائی نے دفتر ہذا، قائداعظم یونیورسٹی اور خاص طور پر ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ترقی و فلاح کیلئے دعا کی۔انہوں نے خاص طور پر غزہ کے مظلومین کے لیے دعا کی۔قبلہ اول بیت المقدس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تمام انبیائے کرام نے اس کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھیں۔ طبقات ابن سعد کے مطابق خود نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو رکعت قبلہ اول کی طرف چہرہ انور کر کے ادا کیں۔ بعد ازاں قبلہ کی تبدیلی کی وجہ سے صحابہ اور امت محمدیہ خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھنے لگے
ادارہ ہذا کی کتب داور خان داود رنگ ہائے پشتو ادب میں ڈاکٹر محمود الرحمان، جنگ آزادی کے اردو شعرا میں لکھتے ہیں، کہ بقول قائداعظم محمد علی جناح، اسرائیل ایک ناجائز بچہ ہے، جس نے فلسطینیوں سمیت عالم اسلام کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ڈاکٹر پروفیسر غلام حیدر سندھی حیات قلندر شہباز میں لکھتے ہیں، کہ عشق مصطفی کے حقیقی مسافر اولیا اللہ ہیں۔
مراہ العارفین کے مطابق اولیا اللہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جملہ اسمائے مبارک، احمد اور اسم محمد سے روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔
حلیمہ سعدیہ لکھتی ہیں: صبیح رحمانی نے دریا کو کوزے میں اس طریقے سے بند کیا کہ کلام رضاکے ذریعے محبت رسول کو عام کرنے والوں کے نام۔۔
بلاشبہ کلام رضا نے رسول اللہ کی محبت کو عام کرنے کا فریضہ بہت ہی احسن انداز سے نبھایا ہے۔اس کلام رضا کے ذریعے محبت رسول کو عام کرنے والوں کو انہوں نے دبستان رضا کانام دیا ہے۔
ڈاکٹر الطاف اللہ،سئینر ریسرچ فیلو، ڈاکٹر اختررسول بودلہ، سینیر ریسرچ فیلو، راحت زبیرملک ریسرچ فیلو،راؤ طاہر حسین،سب ایڈیٹر، سید مبشر حسین شاہ، اسسٹنٹ سیلز، سردار قیصر محمود، اسسٹنٹ اکاونٹس، محسن علی اور اظہر شاہ، رضا مسیح نے بہت اچھے انداز میں لنگر کا انتظام کیا۔










