بدھ,  23  ستمبر 2026ء
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے کے لیے اسلام آباد پولیس کی تیاریاں مکمل، بھاری نفری اور سامان طلب

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع لانگ مارچ اور دھرنے کی کال کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتہائی سخت اور ہنگامی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، سرکاری املاک کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد پولیس نے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دیتے ہوئے ضروری سازوسامان اور نفری کی ایک تفصیلی فہرست تیار کر لی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کرنے کا جامع پلان تیار کیا گیا ہے جس پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

موجودہ سکیورٹی پلان کے تحت وفاقی دارالحکومت کے داخلی راستوں اور انٹری پوائنٹس کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے 210 بھاری کنٹینرز درکار ہوں گے، جن کے ذریعے اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے دو لاکھ سے زائد ریت کی بوریاں بھی منگوا لی ہیں تاکہ ان کنٹینرز اور بیریگیڈز کے درمیان رکھ کر حفاظتی حصار کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور کسی بھی احتجاجی جتھے کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو گرفتار کر لیا گیا

مظاہرین اور ہجوم سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تیاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے ہنگامی بنیادوں پر ایک لاکھ 10 ہزار آنسو گیس کے شیلز کا بڑا ذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے۔ پولیس کے پاس اس وقت آنسو گیس کے شیل فائر کرنے والی 1300 خصوصی گنز پہلے سے موجود ہیں، جبکہ ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید 500 گنز کا آرڈر بھی دے دیا گیا ہے جو جلد پولیس کو موصول ہو جائیں گی۔

پولیس ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے والے کنٹینرز کو بروقت لگانے اور ہٹانے کے لیے اسلام آباد پولیس کے پاس 22 بڑی کرینیں بھی مکمل طور پر فیلڈ میں دستیاب رکھی گئی ہیں تاکہ ٹریفک کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے یا ہنگامی صورتحال میں راستہ فوری طور پر بحال کرنے میں کوئی تاخیر نہ ہو۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے انتہائی حساس مقامات یعنی ریڈ زون اور ایکسٹینڈڈ ریڈ زون میں سکیورٹی پہلے ہی انتہائی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ تمام اہم سرکاری عمارتوں، سفارت خانوں اور اور حساس تنصیبات کے گرد سکیورٹی کے غیر معمولی حصار قائم کر دیے گئے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر اسلام آباد میں ریڈ زون کی طرف جانے والے 3 اہم راستے تاحال مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں جس کے باعث شہر کے مختلف حصوں میں ٹریفک کی آمدورفت بھی جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور ممکنہ تصادم یا سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دوسرے صوبوں سے بھی پولیس کی بھاری اضافی نفری اور رینجرز کے دستے پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ ان اضافی دستوں کو شہر کے داخلی راستوں اور حساس مقامات پر تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ قانون ہاتھ میں لینے والے کسی بھی شخص سے سختی سے نمٹا جا سکے۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں امن عامہ کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید خبریں