واشنگتن(روشن پاکستان نیوز) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےکہا ہےکہ امریکا اپنی مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں بناسکتا، امریکا کو اپنے مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ عکسری ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے حوالے سے اسرائیل ایک اہم شراکت دار ہے لیکن بعض اوقات امریکا اسرائیل سے اتفاق نہیں بھی کرتا۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے متعدد بار یہ ظاہر کیا ہےکہ امریکی مفادات کی خاطر وہ نیتن یاہو سے راہیں جدا کرنےکے لیے بھی تیار ہیں۔ ٹرمپ گزشتہ 40 برسوں کے وہ واحد صدر ہیں جو یہ کہنے کے لیے تیار رہے ہیں کہ اسرائیل ایک اچھا شراکت دار ہے لیکن اس معاملے پر نیتن یاہو اور میری رائے مختلف ہے، یا اس معاملے میں نیتن یاہو غلط ہے۔
امریکی نائب صدر کا مزیدکہنا تھا کہ نیٹو سے ہمارے بہت اہم تعلقات اور شراکت داریاں ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی یورپی خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر نیٹو کے تابع کر دیں، اسی طرح ہم اپنی مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں ہونے دے سکتے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات اب بھی مضبوط ہیں، امریکی سفیر
دوسری جانب اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات اب بھی مضبوط اور مستحکم ہیں۔
امریکا کی اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کی منظوری، 40 ہزار بم بھی شامل
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا ایک دوسرے سے انتہائی قریبی تعاون کرتے ہیں، اتنا زیادہ کہ اسے اکثر لوگ کبھی سمجھ بھی نہیں پائیں گے۔
امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کمی کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی سفیر نے اس کی وجہ غلط معلومات کو قرار دیا اورکہا کہ ایران کے خلاف جنگ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ امریکا کے مفاد میں بھی ہے، جب ہم ایران کے خلاف شراکت داری کر رہے ہیں تو ہم اسرائیل کا دفاع نہیں کر رہے، بلکہ ہم امریکا کا دفاع کر رہے ہیں۔











