اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد نے حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ سیکٹر پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ، ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار اضافے، ٹول ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر حکومتی پالیسیوں کے خلاف 8 اگست 2026 (ہفتہ) سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن محمداویس چوہدری ایڈووکیٹ ، ملک شفاء اللہ اعوان، ملک نثار و دیگرنےکہا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل نے ٹرانسپورٹ کا کاروبار شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نےمطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل پر عائد ٹیکس کم کیے جائیں اور قیمتوں کو یکم جولائی 2024 کی سطح پر واپس لایا جائے، کارگو ٹرانسپورٹرز سے 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لیا جا رہا ہے جبکہ آئل ٹینکر سیکٹر سے صرف 2 فیصد وصول کیا جاتا ہے، لہٰذا کارگو ٹرانسپورٹرز کا ٹیکس بھی کم کر کے 2 فیصد کیا جائے۔ٹرانسپورٹرز نے فنانس ایکٹ 2026 میں متعارف کرائے گئے اس قانون کو بھی مسترد کیا جس کے تحت گاڑی میں نان کسٹم پیڈ سامان پائے جانے پر پوری گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ظالمانہ قانون واپس لیا جائے اور سابقہ طریقہ کار کے مطابق جرمانہ وصول کر کے گاڑی چھوڑنے کا نظام بحال کیا جائے۔انہوں نے ایکسل لوڈ قوانین پر پورے ملک میں یکساں اور مؤثر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اوورلوڈنگ کا خاتمہ سورس پوائنٹس یعنی فیکٹریوں، گوداموں اور لوڈنگ مراکز سے کیا جائے، نہ کہ سڑکوں پر جرمانے وصول کر کے اسے آمدن کا ذریعہ بنایا جائے۔رہنماؤں نے ایچ ٹی وی ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کا طریقہ کار آسان بنانے، ٹول ٹیکس میں کمی اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کے بجائے کم از کم 15 روز یا ماہانہ بنیاد پر نظرثانی کا نظام متعارف کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے چھوٹے ٹرانسپورٹرز، قسطوں پر گاڑیاں خریدنے والے مالکان اور ڈرائیور شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ٹرانسپورٹر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کو متعدد بار خطوط، ملاقاتوں اور میڈیا کے ذریعے مطالبات پیش کیے گئے، تاہم کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔ اگر حکومت نے فوری مذاکرات کر کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو 8 اگست سے پورے ملک میں ہر قسم کی گڈز ٹرانسپورٹ، کنٹینرز، آئل ٹینکرز اور کارگو گاڑیاں بند رہیں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج پرامن ہوگا، سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی بلکہ ٹرانسپورٹر اپنی گاڑیاں خود کھڑی کریں گے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مذاکرات نہ کیے تو ہڑتال سے ملکی معیشت، درآمدات، برآمدات اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔











