جمعرات,  23 جولائی 2026ء
آئیے اشرف المخلوقات سے ملتے ہیں۔
عنوان ہے، زندگی کا خوف

تحریر: سید شہریار احمد

 ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

 آئیے اشرف المخلوقات سے ملتے ہیں۔

چلئے آج آپ کو میں اشرف المخلوقات سے ملاتا ہوں۔

ہم بنی نو انسان کو دو حصوں میں بانٹتے ہیں۔

ایک وہ جو مسلمان ہیں اور دوسرے وہ جو دائرہ اسلام میں نہیں ہیں

یا تو ان کی پیدائش دوسرے مذاہب میں ہوئی ہے یا ہم نے عقیدے اور مسلک کے گھیرے میں لے کر انہیں دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔

 

لاکھوں مخلوقات ہیں خدا کی جن میں سے کئی مخلوقات ایسی ہیں جن تک ہماری رسائی نہیں ہو سکی۔

ہم انہیں دیکھ نہیں سکے۔ مسلمانوں کی الہامی کتاب میں زمینوں اور آسمانوں میں جو بستے ہیں ان کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے۔

قران میں بار ہا اللہ جب گفتگو فرماتے ہیں، ہم سے بات کرتے ہیں تو ہم انسانوں سے پہلے جنوں کو مخاطب کرتے ہیں۔

اللہ تعالی کہتا ہے( اے جن وانس ) بلکہ میرے محدود مطالعے کے مطابق ہر جگہ پہلے جن کو ہی اہمیت دی گئی ہے۔

اب نہ جانے ایسی کتنی کائناتیں ہیں، کتنی دنیائیں وجود رکھتی ہے جو ہماری عقل سے ماورا ہیں۔

ہماری الہامی کتاب تو خدا کے بارے میں بیان کرتی ہے کہ وہ رب المشرقین اور مغربین ہے۔ جس سے یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ جو ہماری دنیا کی مشرق و مغرب ہے اس کے علاوہ بھی مشرقیں اور مغربیں موجود ہیں۔ تو ہم کسی نتیجے میں نہیں پہنچ سکتے کہ دنیا کتنی وسیع و عریض ہے۔

ہمیں بتایا گیا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے جس سے سوچنے سمجھنے سے قاصر انسان یہی تاثر لیتا ہے کہ وہ دنیا کی تمام مخلوقات میں افضل و برتر اور اشرف ہے۔

جہاں تک میں جانتا ہوں یہ جملہ کہیں قران میں نظر نہیں آیا ۔

اگر کسی نے مطالعہ کیا ہو تو میرے علم میں اضافہ فرمائے۔

ہاں مختلف علماء کرام نے تشریح میں یہی ثابت کیا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے تو پھر ایسی مخلوقات جو نور سے یا آگ سے بنی ہیں یا پھر خدا جن کا تذکرہ ہم سے پہلے کرتا ہے (آے جن و انس) تو پھر ہم اس سے برتر کیسے ہو گئے؟

مجھے لگتا ہے کہ خدا کی بہت ساری اشرف مخلوقات میں سے ایک آدم بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جب کہا جاتا ہے کہ اشرف المخلوقات تو میرے ناقص ذہن میں اس کی تشریح یہی ہے کہ بہت ساری برتر مخلوقات میں ایک یہ بھی ہے ۔

 

اس تمہید کے بعد چلئے آئیے اب اشرف المخلوقات سے ملتے ہیں۔

 

یہ دیکھیے یہ شخص کیا کر رہا ہے ؟

 

زندہ آبی حیات کو کچا کھا رہا ہے، یہ مچھلیاں !یہ کیڑے مکوڑے، یہ اپنے دانتوں سے چبا کر کچا کھا جاتے ہیں اور یہ حشرات العرض، یہ آبی حیات کس قدر، کس تکلیف سے گزرتے ہیں میں اس کا اندازہ کر سکتا ہوں۔

یہ مخلوق کچا کھائے جانے کے دوران، اس بے بسی کے عالم میں کس کو پکارتی ہوں گی؟

اور ایسا صرف یہ ایک شخص ہی نہیں کر رہا بلکہ کئی اقوام روزانہ تین ٹائم یہی پریکٹس کر رہی ہیں کہ زندہ مچھلیوں کو کیڑوں مکوڑوں کو کھا جاتی ہیں۔

اب یہ دیکھیں یہ خاتون کیا کر رہی ہے،

زندہ سانپ تیل کی کھولتی ہوئی کڑاہی میں پھینک دیے اس نے،

یہ کاکروچز ،یہ چھوٹے گنڈوئے، مجھے تو ان کے نام بھی نہیں معلوم لیکن میں دیکھ رہا ہوں اور آپ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کھولتی کڑاہی میں انہیں پھینکا جا رہا ہے اور وہ تڑپ رہے ہیں۔ کڑاہی سے باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور پھر دم توڑ دیتے ہیں۔ میں ان کی اذیت بھری موت سے واقف ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ وہ کس اذیت میں اپنی جان ،جان آفرین کے سپرد کر رہے ہیں اور ایسا یہی ایک عورت نہیں کر رہی بلکہ کئی اقوام ہر روز تینوں ٹائم یہی پریکٹس کر رہی ہیں۔

پھر وہ دیکھئے بندر کے سر کو ایک شکنجے سے جکڑا گیا ہے اور پھر ایک تیز دھار آلے سے اس کی کھوپڑی آدھے حصے سے علیحدہ کر دی گئی ہے اور دیکھئے لوگ مزے مزے سے اس کا کچا دماغ کھا رہے ہیں، وہ تڑپتا ہے ،ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور مجھے بے حد تکلیف ہو رہی ہے میں خود کو اس بندر کی جگہ محسوس کر سکتا ہوں کہ اس کے اوپر کیا گزرتی ہے اور ایسا صرف اس جگہ نہیں ہو رہا کئں ممالک زندہ جانوروں کو اپنی خوراک بنا رہے ہیں اور ایسے درندے کروڑوں میں نہیں اربوں کی تعداد میں ہیں۔

چلیں یہ لوگ تو خدا کو نہیں مانتے لیکن ہم مسلمان جو اپنے آپ کو سب سے اعلی مذہب کے پیروکار مانتے ہیں،

اپنی قرآنی تعلیمات کو تمام الہامی کتابوں سے افضل جانتے ہیں،

ذرا وہ دیکھنا ،دنیا کی سب سے مقدس کتاب کی تعلیم دینے والا مولوی ایک معصوم بچی کو قران پڑھاتے ہوئے اس کا نرم و نازک ہاتھ اپنے جسم کے اس حصے پر پھیر رہا ہے جس کا نام لکھتے ہوئے مجھے گھن آ رہی ہے۔

دوسری طرف ایک اور گھر میں ایک قاری،قرآن پڑھانے والا محض اس بنا پر اس معصوم بچی سے بوس و کنار کرتے ہوئے پکڑا گیا کہ کمرے میں والدین نے خفیہ کیمرہ لگا رکھا تھا۔

ہائے اشرف المخلوقات ۔

ابھی ایک اور منظر دیکھو،

معصوم سات سالہ بچی کے ساتھ پانچ لوگ اجتماعی زیادتی کر رہے ہیں، وہ ماں باپ کو بلاتی ہے تو ایک درندہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتا ہے اور باقی اس کے ساتھ جنسی لذت حاصل کر رہے ہیں۔

اس بچی کی جگہ میں تڑپ رہا ہوں ،

میں جو اس عمر میں خدا اور رسول کو نہیں جانتا صرف اپنے باپ اور ماں کی شکل میری آنکھوں میں بار بار آ رہی ہے۔

میں جو اس وقت ایک سات سال کی بچی ہوں،تڑپ رہی ہوں۔کوئی میری مدد کو نہیں آ رہا،

یہ بندے مجھے نچوڑ رہے ہیں، میرے جسم کے ہر حصے میں درد ہو رہی ہے ،

میرے بدن پر زخموں کے نشان ہیں،

کہیں کہیں سے خون بھی بہہ رہا ہے،

میں تکلیف سے تڑپ رہی ہوں، ان کی وحشت سے پاگل ہوئی جا رہی ہوں،

ایک شخص نے میری چیخ و پکار روکنے کیلئے میرے ناک اور منہ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔

اس نے ہاتھ میرے منہ پر رکھا ہے جس سے میرا ناک بھی دب گیا ،میرا سانس گھٹ رہا ہے،

میں سانس نہیں لے پا رہی،

جسم میں طاقت ختم ہونے لگی ہے۔ میں نے بہت کوشش کی ہے ان سے بچنے کی۔

اب میری حرکت ماند پڑنے لگی ہے،

اب میری آنکھیں پتھر آ گئی ہیں ۔

 

یہ ہے وہ اشرف المخلوقات جس نے میرا حقیقی زندگی سے تعارف کرایا ہے۔

 

اب اور آگے بڑھتے ہیں،

اس دفتر میں جتنے اشرف المخلوقات بیٹھے ہیں یہ سب ان دو لڑکیوں کی عزتوں کے رکھوالے بھی ہیں اور عاشق بھی۔

یہ تمام لوگ ، لڑکیوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں دوسرے مردوں سے

جبکہ خود انہی لڑکیوں سے جنسی لطف اندوزی چاہتے ہیں۔

اللہ کی اس مخلوق کے دماغ میں ہر وقت صرف ان لڑکیوں کا جسم گردش کرتا رہتا ہے۔

یہ دو بچیاں جو نہ جانے کتنے مشکل حالات میں اپنے گھر والوں سے اجازت لے کر نوکری کرنے آئی ہیں ،ہر وقت سہمی سہمی سی رہتی ہے۔

نجانے کب کون انہیں استعمال کر لے اور کسی مجبوری کی بنا پر یہ استعمال بھی ہو جائیں۔

 

ذرا ادھر آنا اس مارکیٹ میں ڈیڑھ سو دکانیں ہیں کپڑے کی، پرچون کی ،اشیائے خرو نوش کی، کاسمیٹکس کی،

ان سب دکان داروں میں دو خوبیاں ہیں، ایک تو یہ ناجائز منافع خوری ،ٹیکس چوری ، دو نمبر سودا بیچنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے

اور دوسری خوبی یہ ہے کہ یہ بقول شخصے سب ہی اشرف المخلوقات کی لسٹ میں شمار ہوتے ہیں

اور کئی تو ان میں باریش نمازی بھی شامل ہیں جنہوں نے اس مہینے کے آخر تک بے پناہ کمائی کی ہے لیکن اپنے ملازمین کی تنخواہیں دینے کے لیے گنجائش نہیں، اس لیے انہیں دو تین ماہ روک کے رکھیں گے،

اب اس طرح کے بہت سارے اور افضل اور برتر اشخاص آپ کے آس پاس بھی بیٹھے ہوں گے یا گھوم رہے ہوں گے،

تو آپ ان کے بارے میں کچھ بتائیے گا

بلکہ میں کہوں گا کہ آپ بھی تو اشرف المخلوقات ہیں،

آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟

آپ بھی ایسے ہی اشرف المخلوقات تو نہیں جن کا ذکر میں نے ابھی اوپر کیا ہے؟

مزید خبریں