لاہور(کرائم رپورٹر) لاہور کے والٹن روڈ کے علاقے میں شادی سے انکار پر ایک شخص نے خاتون پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی، جبکہ واقعے کے دوران ملزم خود بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر جھلس گیا۔
دونوں زخمیوں کو فوری طور پر جناح اسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے متاثرہ خاتون کی خیریت دریافت کی اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
حنا پرویز بٹ نے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ڈاکٹرز اور انتظامیہ سے متاثرہ خاتون کے علاج کے حوالے سے بریفنگ بھی لی اور ہدایت کی کہ خاتون کو ہر ممکن بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
حنا پرویز بٹ کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے 4 سالہ بیٹے کو مدرسے میں داخل کروانے کے لیے لے جا رہی تھی کہ گلی میں ملزم نے اسے روک کر ہراساں کرنا شروع کر دیا۔

خاتون کے شور مچانے پر ملزم نے اس پر آتش گیر مادہ پھینک دیا، جس سے خاتون کے چہرے، بالوں اور جسم کے مختلف حصے جھلس گئے، جبکہ ملزم بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر زخمی ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم پہلے 2 شادیاں کر چکا تھا، تاہم دونوں بیویاں ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی تھیں۔
بعد ازاں ملزم نے اپنی پڑوسی خاتون سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی اور مبینہ طور پر 3 بچوں کی ماں خاتون پر خلع لے کر اس سے شادی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا۔
خاتون کے انکار پر ملزم نے مبینہ طور پر طیش میں آ کر یہ اقدام کیا۔
راولپنڈی پولیس کی مختلف کارروائیاں، ماجد ستی قتل کیس میں تین مجرمان کو عمر قید، متعدد ملزمان گرفتار
حنا پرویز بٹ نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ تھانہ فیکٹری ایریا میں درج کر لیا گیا ہے اور ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی متاثرہ خاتون کے ساتھ کھڑی ہیں اور اسے قانونی، طبی اور ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہراساں کرنا، ان پر دباؤ ڈالنا یا شادی کے لیے مجبور کرنا ناقابل برداشت جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا واضح پیغام ہے کہ خواتین حکومت کی ریڈ لائن ہیں اور خواتین پر تشدد یا ہراسگی میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔











