بدھ,  01 جولائی 2026ء
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے

پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف وجوہات بیان کی جاتی رہی ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں بجلی کی طلب رسد سے زیادہ ہے، اس لیے لوڈ شیڈنگ ناگزیر ہے۔ کبھی دلیل دی جاتی ہے کہ بجلی تو موجود ہے، مگر فرسودہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام اتنا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے بجلی کی فراہمی میں تعطل آتا ہے۔ ایک اور جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی زیادہ ہے، وہاں لوڈ شیڈنگ بھی زیادہ کی جاتی ہے تاکہ تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کے مالی نقصانات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
اگر ان دلائل کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بجلی کی کمی کا مؤقف اب پہلے جیسا وزن نہیں رکھتا۔ ایک وقت تھا جب پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا بڑا انحصار پن بجلی پر تھا۔ ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہونے سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی تھی اور لوڈ شیڈنگ کو کسی حد تک ناگزیر سمجھا جا سکتا تھا۔ لیکن اب صورتحال کافی مختلف ہے۔ آج ملک میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ نجی بجلی گھروں، یعنی آئی پی پیز، سے حاصل کیا جاتا ہے، جن کے ساتھ حکومت ایسے معاہدے کر چکی ہے جن کے تحت انہیں بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، “کیپیسٹی پیمنٹ” کے نام پر بھاری رقوم ادا کرنا حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے۔
یہ معاہدے پاکستان کے توانائی کے شعبے پر ایک بہت بڑا مالی بوجھ بن چکے ہیں۔ ہر سال ہزاروں ارب روپے عوام کے ٹیکسوں اور بجلی کے بلوں سے ان ادائیگیوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ اگر حکومت نجی بجلی گھروں کو ان کی دستیاب پیداواری صلاحیت کی قیمت بہرحال ادا کر رہی ہے، تو پھر اس بجلی کو مکمل طور پر حاصل کرکے صارفین تک کیوں نہیں پہنچایا جاتا؟ اگر عوام پہلے ہی اس بجلی کی قیمت ادا کر رہے ہیں تو انہیں اس کا فائدہ بھی ملنا چاہیے۔ کم از کم گرمی کے موسم میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے یا بجلی نسبتاً کم نرخوں پر فراہم کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح بجلی چوری کا مسئلہ بھی اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے، لیکن اس کا حل ایماندار صارفین کو سزا دینا نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی فیڈر پر ایک ہزار صارفین میں سے چند سو افراد بجلی چوری کر رہے ہیں تو باقی صارفین کو کئی کئی گھنٹے بجلی سے محروم کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بجلی کی چوری روکنا حکومت، تقسیم کار کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے، نہ کہ اس کا بوجھ عام شہریوں پر ڈال دیا جائے۔

یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بجلی کی چوری صرف چند افراد کی کارروائی نہیں ہوتی۔ متعدد مواقع پر متعلقہ اہلکاروں کی ملی بھگت، رشوت ستانی اور کمزور نگرانی کے باعث یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جب تک اس داخلی بدعنوانی پر قابو نہیں پایا جاتا، بجلی چوری کے خلاف کوئی بھی مہم دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔

شدید گرمی میں طویل لوڈ شیڈنگ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے۔ اس سے بچوں، بزرگوں، مریضوں، طلبہ، کاروبار اور صنعت سب متاثر ہوتے ہیں۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ جب ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس کی قیمت بھی قومی خزانے سے ادا کی جا رہی ہے، تو انہیں اندھیروں میں رہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

پاکستان کو آج بجلی کی قلت سے زیادہ بہتر منصوبہ بندی، شفاف معاہدوں، جدید ٹرانسمیشن نظام، مؤثر انتظامی اصلاحات اور بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ضرورت ہے۔ جب تک ان بنیادی مسائل کا حل نہیں نکالا جاتا، لوڈ شیڈنگ کے مختلف جواز پیش کیے جاتے رہیں گے، مگر عوام کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہیں گی۔

تحریر— داؤد درانی

مزید خبریں