جمعرات,  02 جولائی 2026ء
باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں۔۔
باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں۔۔

باپ سراں دے تاج محمد، تے ماواں ٹھنڈیا چھاواں۔۔ میاں محمد بخش کا کلام سامنے آیا تو آنکھ بھر آئی، جولائی کا آغاز ہوتا ہے تو ویسے ہی ابو جی کی یاد آنے لگتی ہے، وہ جب تک زندہ تھے ہماری زندگی میں کوئی مسئلہ پریشانی ہوتی ہی نہیں تھی، کبھی کوئی پریشانی ہوتی بھی تو وہ آنکھوں سے پڑھ لیتے تھے۔ اکیلے میں لے جاتے اور پوچھتے کیا پریشانی ہے؟۔ دکھ اور پریشانی ہوتی کیا ہے یہ تو پتا ہی اب چلا ہے۔

کل ہی کسی سے بات ہو رہی تھی کہ میں نے زندگی میں رونا نہیں سیکھا تھا، لوگوں کے مرنے پر جاتا تو بھی نہیں رویا تھا، کبھی کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھتے ہوئے کوئی روتا تو اس کا مذاق اڑاتا تھا کیونکہ غم کا ذائقہ ہی نہیں چکھا تھا، پہلی مرتبہ جب سب کے سامنے رویا تو یہ وہ موقع تھا جب میری امی جی کا انتقال ہوا تھا۔ اس کے بعد سے دل بہت کمزور لگنے لگا۔

امی جی کے انتقال کے چار پانچ روز بعد ابو جی کی طبیعت اچانک خراب ہوئی تو انہیں لے کر میں اور میرا بھائی ابرار راولپنڈی جنرل ہسپتال (بے نظیر ہسپتال) لے گئے۔۔ ڈاکٹرز نے ای سی جی اور دیگر ٹیسٹ فوری کیے تاہم کچھ نہیں تھا، بس ابو جی اپنی شریک حیات کے جانے پر دکھی تھے۔۔ بہرحال ڈاکٹرز نے ابو جی کو کچھ دیر کے لیے انڈر آبزرویشن رکھنے کا فیصلہ کیا، اسی وقت ہسپتال کی ایمرجینسی میں ایک خاندان آیا، وہ جس مریض کو لائے تھے اس کا راستے میں ہی انتقال ہو چکا تھا۔۔ ڈاکٹرز نے جوں ہی اس مریض کے انتقال کی تصدیق کی، اس پورے خاندان نے ہسپتال میں ہی با آواز بلند رونا شروع کر دیا۔۔

ہمارا دکھ بھی ابھی تازہ تھا، سب کو روتا دیکھ کر میں اور ابرار بھی ایک دوسرے سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔۔ پھر ابو جی کے سامنے جانے سے پہلے ہم دونوں نے منہ ہاتھ دھویا تاکہ انہیں معلوم نہ ہو سکے کہ ہم رو رہے تھے۔ اس روز تو اپنے آنسو چھپا لیے مگر بعد میں یہ کنٹرول نہیں رہا، کہ دل اس کے بعد سے بار بار رونا چاہتا ہے۔۔

ہم چھوٹے تھے تو اکثر ابو جی اور امی جی کو کہتے سنتے کہ بچوں کو صحافت میں نہیں آنے دینا۔۔ اس وقت سمجھ نہیں آتی تھی کہ اتنے بڑے صحافی ہونے کے باوجود وہ ہمیں کیوں صحافت سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ اب پتا چلا کہ وہ کس تپتی دھوپ میں خود چلا کرتے اور ہمارے سر پر سایہ رکھتے۔۔ اسی لیے تو شاعر نے کہا تھا ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں، باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں۔۔۔

آج صحافت میں 32سال سے زیادہ عرصہ گزارنے کے بعد انکل انور مسعود کی غزل کی ردیف یاد آ رہی ہے، سوچی پئے آں ہنڑ کی کرئیے (سوچ رہے ہیں اب کیا کریں)۔۔ یعنی ابو جی نے بہت مشکلات جھیلی ہوں گی اس لیے وہ نہیں چاہتے ہوں گے کہ ہم بھی ان مشکلات کا سامنا کریں مگر کیا کیجئے کہ ایک بھائی ابرار کے علاوہ ہم تین بھائی شعبہ صحافت سے ہی جڑے ہیں اور مشکلات اب اذیت کا روپ دھار چکی ہیں۔ جہاں میڈیا سے جڑنے والے تمام لوگ جو کل وقتی صحافت کر رہے ہیں وہ تو جہاد ہی کر رہے ہیں۔

ابو جی دیکھنے میں بہت سخت مزاج لگتے تھے اور بچپن میں ابو جی کی ایک گھورتی نظر ہی کافی ہوا کرتی تھی، کبھی انہوں نے مارا نہیں مگر ایک مرتبہ گھورنے کا اثر ایسا ہوتا تھا کہ ہماری جان ہی نکل جاتی تھی۔ لیکن مزاج ایسا تھا کہ ایک مرتبہ ملتان سے آئے کزنز کے ساتھ کھیلتے ہوئے گھر کے آہنی گیٹ میں میرے ہاتھ کی انگلی آ کر کٹ گئی، سردی کی وجہ سے مجھے درد نہیں محسوس ہوا مگر سارے کزنز نے شور مچایا تو ابو جی بھاگتے ہوئے آئے، کسی گاڑی یا ٹیکسی کا انتظار کئے بغیر مجھے گود میں اٹھایا اور ایک کلومیٹر دور آر جی ایچ ہسپتال تک بھاگتے ہوئے چلے گئے۔

انہیں کبھی شاید یہ یاد نہ ہو کہ ہم کون سی جماعت میں پڑھتے ہیں مگر ہمارے پہننے کے لیے اچھے سے اچھا لباس مہیا کرنا ضرور یاد ہوتا۔ خود وہ ویگن میں جایا کرتے اور ہمارے لیے گھر پر گاڑی کھڑی ہوا کرتی۔ اس وقت شاید اس کی سمجھ نہیں آتی تھی مگر آج جب خود گاڑی گھر چھوڑ کر بس میں سوار ہو کر دفتر جاتا ہوں تو ابو جی کے لیے ہر قدم پر دعا نکلتی ہے۔

ان کی یہ محبت صرف ہمارے لیے نہیں تھی بلکہ اپنے بہن بھائیوں کے لیے بھی تھی، ہماری پھوپھی کو اپنی بیٹی کی طرح رخصت کیا تھا۔ اکبر چاچا کی شادی بھی اس طرح کی تھی جس طرح باپ اپنے بیٹے کی شادی کرتا ہے۔ سب کی فکر ہوا کرتی تھی۔۔ مجھے میڈیا ٹاون میں پلاٹ ملا تو ان کی خواہش تھی کہ میں وہاں مکان بنا لوں، انہیں جب دادا کے مکان میں سے حصہ ملا تو انہوں نے مجھے دس لاکھ روپے کا چیک دیا اور بولے کہ فوری اپنا مکان بنانا شروع کر دیں۔۔ میں نے کہا ابو جی، اس سے تو بنیادیں ہی بن پائیں گی۔۔ بڑے پیار سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے بیٹے ایک مرتبہ تعمیر شروع کریں تو اللہ مدد کرتا ہے، تمہاری امی جی نے بھی میری قلیل تنخواہ میں کمیٹیاں ڈال کر یہ مکان بنایا تھا۔ بہرحال، ان ہی دنوں میں مجھے میرے میڈیا ٹاون کے پلاٹ کی اچھی پیشکش ہوئی تو میں نے پلاٹ فروخت کر کے اس کے قریب ہی بنا بنایا مکان خرید لیا۔

جیسے ہی مکان کا بیعانہ دیا، فوری گھر پہنچا، رمضان کا مہینہ تھا، ابو جی تلاوت کر رہے تھے، میں نے انہیں ساتھ لیا اور بتائے بغیر مکان دکھانے کے لیے لے گیا، مکان کے باہر پہنچے تو پوچھا، بیٹے یہ کس کا گھر ہے، میں نے کہا یہ آپ کا گھر ہے۔۔ گھر میں داخل ہوئے، سارے گھر کو اچھی طرح دیکھا، چھت بہت وسیع تھی اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا یہ سب سے اچھی جگہ ہے، صبح صبح اٹھ کر میں تو یہیں بیٹھا کروں گا۔ پھر گھر مکمل دیکھنے کے بعد میرے ماتھے کو چوما اور کہنے لگے بیٹا، مجھے تمہاری ہی فکر تھی، آج اس فکر سے آزاد ہو گیا ہوں۔ بس اب ادھر خود رہنا، کرایہ پر نہیں دینا، کرایہ دار گھر خراب کر دیتے ہیں۔ میں تو ابو جی کے ساتھ ہی رہنا چاہتا تھا مگر ان کا کہنا تھا نیا مکان ہے، اس میں خود ہی رہنا چاہیئے اور اس طرح مجھے نئے گھر میں خود بھیجا۔

ابو جی انتہائی وضعدار انسان تھے، آخری مشاعرہ آبپار کے کمیونٹی سینٹر میں پڑھا، وہاں مشاعرے میں دیر ہو گئی تو مجھے فون کیا اور بولے کہ بیٹا یہاں آپ کے آفس کے قریب مشاعرہ پڑھنے آیا تھا، بہت دیر ہو گئی ہے، آپ مجھے گھر چھوڑ دیں گے۔۔ میں نے کہا ابو جی آپ حکم کیا کریں، پوچھتے کیوں ہیں۔۔ میں فوراً وہاں پہنچ گیا۔۔ مشاعرے کے اختتام پر منتظم وفا چشتی بھائی نے مجھے کہا کہ آپ جب آئے ہوئے تھے تو آپ نے کلام کیوں نہیں پیش کیا، میں نے کہا وفا بھائی، آپ مجھے افتخار سمجھ رہے ہیں، میں تو شعر نہیں کہتا۔ اس پر وفا بھائی نے پھر کہا کہ شہریار خان تم بہت توانا شعر کہتے ہو، میں نے جواباً مذاق میں کہہ دیا کہ وفا بھائی میں تو بہت بے ادب سا انسان ہوں۔ واپسی پر گھر جاتے ہوئے میں نے ابو جی کو بتایا تو کہنے لگے بیٹا، آپ کیسے بے ادب ہیں؟۔ میرے اللہ کا کرم ہے کہ میرا کوئی بھی بچہ بے ادب نہیں۔ آپ یہ کہتے کہ وفا بھائی میں گیت نگار ہوں، غزل گو شاعر نہیں۔۔ آپ کے گیت تو گائے گئے ہیں۔

حقیقت تو یہی ہے کہ ہمارے ابو جی جو صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب، افسانہ نگار اور شاعر بھی تھے ان کی خصوصیات ان کی تمام اولاد میں آئی ہیں۔ کوئی صحافی ہے، کوئی براڈ کاسٹر ہے، کوئی شاعر تو کوئی نثر نگار مگر کوئی نہ کوئی خصوصیت ضرور ہے۔

آج 2جولائی کو میرے ابو جی کا یوم وفات ہے، رب کریم سے دعا ہے کہ ابو جی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، آمین۔۔

آخر میں میاں محمد بخش کا وہ کلام جسے پڑھ کر ابو جی کی یاد پھر آئی اور پھر پلکیں بھگو گئی۔۔

باپ سراں دے تاج محمد! تے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
ہر اک چیز بازاروں لبھدی، تے نہیں لبھدیاں نے ماواں
باپ مرے سر ننگا ہووے، تے ویر مرن کنڈ خالی
ماواں باجھ محمد بخشا! کون کرے رکھوالی
ماں مرے تے پاپے مکدے، پیو مرے گھر ویلا
شالا مرن نہ ویر کسے دے، اجڑ جاندا جے میلا
ماں ہوندی تے ہور چڑھاندی، پیو توں منگدی سنگاں
سیاں نال میں کھیڈن گئی آں، تے ٹٹ گئیاں نے ونگاں

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان
دو جولائی۔۔ 2026

مزید خبریں