تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ۔
24 گھنٹے ٹھہر جاؤ /اتنی جلدی کیا ہے مرنے کی۔
کبھی کسی زمانے کی بات ہے کہ ایک شخص زندگی سے تنگ آ کر ندی میں کودنے ہی والا تھا کہ اسے کسی نے آواز دے کر روکا اور پوچھا کہ یہ کیا کرنے جا رہے ہو ؟
تو کودنے والے کا جواب تھا کہ میں مرنے جا رہا ہوں کیونکہ زندگی بہت مشکلوں اور تکلیفوں میں گزری ہے،
میں ایک لمحہ بھی زندہ رہنا نہیں چاہتا، میں اس زندگی سے تنگ آ گیا ہوں ،
جو مانگا خدا سے وہ کبھی نہ ملا، جو نہیں مانگا ہمیشہ وہی میرے حصے میں آیا۔
اواز دینے والے نے کہا رک جاؤ، اتنی جلدی کیا ہے مرنے کی،
24 گھنٹے بعد مر جانا ،
آج کا ایک دن میرے ساتھ گزار لو۔
کودنے والا شخص دکھی تو تھا ہی، مرنا بھی چاہتا تھا ،اس کے دل میں آئی کہ چلو جہاں اتنی گزاری تکلیفوں میں زندگی اور ایک دن جی لیتا ہوں۔
آواز دینے والا اسے اس وقت کے راجہ کے پاس لے گیا کیونکہ راجہ سے اس کے تعلقات بہت اچھے تھے۔
اس نے راجہ کے کان میں کوئی بات کہی تو راجہ نے اس سے کہا کہ میں اس کو 100 اشرفیاں دیتا ہوں،
مددگار نے خودکشی کرنے پر امادہ شخص کو کہا کہ راجہ تمہاری دونوں آنکھیں مانگ رہا ہے اور اس کے بدلے میں سونے کی سو اشرفیاں دے گا۔
یہ شخص چونکا ،بدکا، پریشان ہوا اور صاف انکار کر دیا کہ میں اپنی آنکھیں کیوں دوں، بے شک وہ 200 سونے کی اشرفیاں مجھے دے گا تب بھی نہ دوں گا۔
تو اس مددگار شخص نے دوبارہ راجہ سے بات کی اور پھر اس شخص سے بولا کہ چلو اپنے کان دے دو،
اس کے بدلے میں سو اشرفیاں اور ملیں گی،
اپنے بازو دے، دو سو اشرفیاں اور دیں گے۔
وہ شخص چیخنے لگا کہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ؟
یہ سودا میں کیسے کروں؟
میں کیوں دوں اپنے ہاتھ، میں کیوں دوں اپنے کان اور آنکھیں؟
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلنے لگا تو آواز دینے والے نے کہا
دیکھو تم جتنا خدا سے مانگو گے، جتنی تمنائیں کرو گے، اتنا ہی دکھی رہو گے۔
تمہیں خدا نے جو دے رکھا ہے اس کا شکر ادا کرو کیونکہ دنیا میں کوئی انسان سکھی نہیں ہے،
کوئی انسان خوش نہیں ہے،
کوئی شخص چاہتا ہے کہ اسے ایک لاکھ روپے کی نوکری ملے اگر 80 ہزار کی ملے گی تو وہ اداس ہو جائے گا۔
کوئی محبت کی شادی کرنا چاہے گا لیکن اسے سچی محبت نہ مل پائے گی ،
کوئی اولاد کی طرف سے سکھی نہیں ہے ،ناراض رہتا ہے۔
تمہیں زندگی ملی ہے، جو کچھ ملا ہے اسے قبول کرو ،
اسے خدا کا احسان مانو،
یہ آنکھیں جتنی خوبصورت دنیا کو دیکھتی ہیں اگر یہ نہ رہیں تو تمہاری زندگی اندھیر ہو جائے لیکن تمہیں ان کی قدر نہیں ہے،
یہ کان جو ہواؤں کی سرسراہٹ، پرندوں کی چیچہاہٹ اور خوبصورت موسیقی سنتے ہیں یہ نہ رہیں تب بھی تمہاری دنیا ویران ہو جائے۔ یہ آنکھیں،یہ کان، یہ تمہارا جسم ،یہ خدا کے معجزے ہیں ان معجزوں کی قدر کرو۔
تم خود سوچو کہ تم نے ایسا کیا کیا ہے جو خدا نے تم کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں؟
تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔اگر خدا یہ سب کچھ واپس لینا چاہے تو اسے کون روک سکتا ہے؟
بس تم صرف اپنی خواہشوں اور اپنی تمناؤں کو لگام دو، انہیں روکو !
تم دیکھو گے کہ زندگی ایک دم پلٹ جائے گی، تمہیں ہر طرف ایک خوشی کا احساس ہوگا اور ایسی نعمتیں جنہیں تم نے کبھی اہمیت نہیں دی وہی تمہیں راحت دیں گی۔
کہنے والے کہتے ہیں
کہ ہم ان نعمتوں کی پرواہ نہیں کرتے
جو ہمارے پاس ہیں
جب تک کہ ہم انہیں کھو نہ دیں۔











