اسلام آباد (سعد عباسی) وفاقی دارالحکومت کے بحریہ انکلیو روڈ پر واقع ایک نجی پٹرول پمپ پر مبینہ طور پر سرکاری نرخوں کے برعکس ڈیزل 482 روپے فی لیٹر فروخت کیے جانے کے معاملے پر کئی روز گزرنے کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہ آ سکی، جس پر شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پٹرول پمپ کے خلاف گراں فروشی کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہونے کے باوجود نہ تو پمپ کو سیل کیا گیا اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
دوسری جانب یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ تھانہ بنی گالہ کے ایس ایچ او آصف خان نے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض مرکزی ملزم کو چھوڑ دیا۔ تاہم اس حوالے سے پولیس کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دیں، ذمہ داروں کا تعین کریں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔
اسلام آباد میں پٹرولیم اور پولیس مافیا کا گٹھ جوڑ بے نقاب: سرکاری نرخوں کا جنازہ نکل گیا
تاحال اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل جاری نہیں کیا گیا۔











