بجٹ میں خواتین کو با اختیار بنانے کا موقع ضائع کر دیا گیا، ثمینہ فاضل

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز ) اسلام آباد ویمن چیمبر کی بانی صدر ثمینہ فاضل نے کہا ہے کہ حالیہ وفاقی بجٹ میں خواتین کی معاشی شمولیت کے موقع کو ضائع کر دیا گیا ہے۔ بجٹ میں غربت میں کمی ہنر مندی، کاروباری معاونت اور مالی وسائل تک رسائی جیسے بنیادی شعبوں کو توجہ نہیں دی گئی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے، تاہم وہ تعلیم، ٹیکنالوجی، مالی خدمات اور منڈیوں تک رسائی میں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے خواتین کو معیشت کا فعال حصہ بنانا ضروری ہے۔ثمینہ فاضل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کمزور گھرانوں کی مدد ٹھیک ہے تاہم طویل المدتی ترقی کے لیے تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لیے 58 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے 838 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ قوم کو بھکاری بنانے کے مترادف ہے۔ بجٹ میں خواتین کے لیے علیحدہ وفاقی اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام یا خواتین کی زیر قیادت کاروباروں کے لیے مخصوص اسکیمیں واضح طور پر شامل نہیں کی گئیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے لیے خصوصی مالیاتی سہولیات، فنی و پیشہ ورانہ تربیت میں توسیع، ٹیکس میں رعایتیں اور ڈیجیٹل و ای کامرس سپورٹ فراہم کی جائے۔ مارکیٹ تک رسائی اور بزنس ڈیولپمنٹ سروسز کو بہتر بنا کر خواتین کی ملکیتی کمپنیوں کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر وسعت دی جا سکتی ہے۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سابق نائب صدر نائمہ انصاری نے کہا کہ اگرچہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط اور ترقی کے اہداف شامل ہیں لیکن خواتین کے لئے اقدامات کی کمی ہے۔پاکستان کی طویل مدتی معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو مساوی معاشی مواقع تک رسائی دی جائے۔

خواتین کو معاشی دھارے میں لانا فلاحی نہیں بلکہ اقتصادی ضرورت ہے، ثمینہ فاضل

مزید خبریں