امریکا، ایران معاہدہ اب جنیوا کے بجائے کس ملک میں ہوگا؟

تہران(روشن پاکستان نیوز) سوئس وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران معاہدہ اب جنیوا کے بجائے برجن اسٹاک ریزورٹ سوئٹزرلینڈ میں ہوگا۔

نجی ٹی وی کے مطابق سوئس وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے ساتھ رابطے میں ہیں، 19 جون کو پاکستان، قطری ثالثوں، امریکا اور ایران کی تجویز پر دستخط کے لیے سیاحتی مقام کینٹن آف نڈوالڈن میں واقع برجن اسٹاک ریزورٹ کو منتخب کیا گیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد شروع ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی سربراہی محمد باقر قالیباف کریں گے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد کیے جانے کا امکان ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے مذاکراتی عمل میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔

ایرانی حکام کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد مجوزہ مفاہمتی یادداشت کو عملی شکل دینا اور جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بات چیت کرنا ہوگا۔

ایران معاہدہ: جے ڈی وینس نے بڑے راز کھول دیئے

واضح رہے کہ اس سے قبل جی 7سمٹ میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہمارا مقصد شروع سے ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا تھا جسےحاصل کیا، آبنائے ہرمز جمعے تک جہاز رانی کے لیےمکمل طور پر کھل جائےگی جہازوں کی نقل و حرکت شروع ہو گئی اور واضح کرتا ہوں آبنائے ہرمزٹیکس فری ہوگی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات مکمل کرکےنارمل ریاست بننا چاہتا ہے ایران کیساتھ معاہدے کا متن سرکاری طورپر جاری کریں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کو رقم ادا کرنے کے پابند نہیں ہیں ایران کا محاصرہ بہت اچھا رہا، امریکی بحریہ کو مبارکباد دیتا ہوں بہت جلد ایران معاہدے کا ایک ایک لفظ سامنے لاؤں گا۔

مزید خبریں