کوئٹہ (روشن پاکستان نیوز) ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے سے قبل بہیمانہ تشدد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، تیزاب گردی سے پہلے ان پر شدید تشدد کرتے ہوئے بال نوچے گئے۔
کوئٹہ کے سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے سے قبل ملزم کی جانب سے انہیں ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ینگ ڈاکٹر ایکشن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر طاہرموسیٰ خیل نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ تیزاب حملے سے قبل ڈاکٹر ماہ نوکے بال نوچے گئے۔
ابتدائی تحقیقات اور ملزم کے موبائل فون کی جانچ پڑتال سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم ہمایوں شاہ (ہسپتال کا لفٹ آپریٹر) کئی ماہ سے ڈاکٹر کو ذاتی تعلقات قائم کرنے کے لیے بلیک میل اور ہراساں کر رہا تھا۔
جنگ دوبارہ شروع اور اسرائیل پر حملے کے لیے تیار ہیں، ایران
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، کل سے سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز، الیکٹیو سروسز غیرمعینہ مدت کیلئے بند رہیں گی۔
سربراہ وائی ڈی اے کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کو ہلاک کرنے کے بعد شکوک وشبہات پیدا ہوئے، میڈیکل ٹیکنیشن عبد الرزاق کا علاج سرکاری خرچے پر کیا جائے۔
ڈاکٹرطاہرموسیٰ خیل نے مطالبہ کیا کہ سول اسپتال واقعے کی غیرجانبدارتحقیقات کرائی جائے، اسپتال میں احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا، بلوچستان پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہیں۔











