تاجر برادری کاآسان ٹیکس اسکیم کا خیرمقدم، ایف بی آر کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی “آسان ٹیکس اسکیم” کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاجروں اور حکومت کے درمیان اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے،ماضی میں ٹیکس نظام انتہائی پیچیدہ، تکنیکی اور عام کاروباری افراد کی سمجھ سے بالاتر تھا، جس کے باعث لاکھوں تاجر ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے سے گریزاں تھے، نئی اسکیم کے تحت تاجر اپنی سالانہ سیل (ٹرن اوور) کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرے گا۔بجلی کے بلوں یا دیگر ذرائع سے پہلے سے ادا کردہ ایڈوانس انکم ٹیکس کو قابلِ ایڈجسٹ کیا جائے گا،ٹیکس ریٹرن فارم اردو سمیت مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگا،چھوٹے تاجروں کو پیچیدہ گوشواروں اور ٹیکس مشیروں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا،اسکیم میں شامل تاجروں کو ایف بی آر اہلکاروں کی غیر ضروری مداخلت اور ہراسانی سے تحفظ حاصل ہوگا،مارکیٹوں کی جلد بندش اور کاروباری اوقات کار پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کی جائے، صنعتی شعبے کے مسائل کے حل کے لیے مستقل مشاورتی کمیٹی قائم کی جائے،بند ہوتی صنعتوں کو بحال کرنے کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے۔زراعت کے شعبے میں کسانوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے پالیسی اصلاحات کی جائیں۔بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے،آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نےنیشنل پریس کلب اسلام آباد میں خالد چوہدری، شاہد عباسی اوردیگر تاجر نمائندوں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ ایک ایسی اسکیم سامنے آئی ہے جس کی تیاری میں تاجر تنظیموں کو براہ راست شامل کیا گیا اور ان کی تجاویز کو عملی شکل دی گئی، ماضی میں ٹیکس نظام انتہائی پیچیدہ، تکنیکی اور عام کاروباری افراد کی سمجھ سے بالاتر تھا، جس کے باعث لاکھوں تاجر ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے سے گریزاں تھے،ملک میں شرح خواندگی اور چھوٹے کاروباری افراد کی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سادہ، آسان اور مقامی زبانوں میں ٹیکس نظام کی ضرورت تھی، نئی اسکیم کے تحت تاجر اپنی سالانہ سیل (ٹرن اوور) کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرے گا۔بجلی کے بلوں یا دیگر ذرائع سے پہلے سے ادا کردہ ایڈوانس انکم ٹیکس کو قابلِ ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ٹیکس ریٹرن فارم اردو سمیت مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگا۔چھوٹے تاجروں کو پیچیدہ گوشواروں اور ٹیکس مشیروں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔اسکیم میں شامل تاجروں کو ایف بی آر اہلکاروں کی غیر ضروری مداخلت اور ہراسانی سے تحفظ حاصل ہوگا۔اجمل بلوچ نے دعویٰ کیا کہ اگر کسی تاجر کی سالانہ فروخت ایک کروڑ روپے ہے تو اسے صرف ایک لاکھ روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ پہلے سے جمع شدہ ایڈوانس ٹیکس اس رقم سے منہا کر دیا جائے گا،” انہوں نے مزید کہا کہ ڈنڈے کے بجائے اعتماد کی پالیسی اپنائی گئی ہے جو کہ خوش آئند امر ہے، ماضی میں ٹیکس وصولی کا نظام خوف، جرمانوں اور چھاپوں پر مبنی تھا، جس سے کرپشن کو فروغ ملا۔انہوں نے کہا کہ تاجر ٹیکس دینے سے نہیں بلکہ کرپٹ نظام اور غیر ضروری ہراسانی سے تنگ تھے۔ اگر حکومت اعتماد اور آسانی کا راستہ اختیار کرے تو تاجر خوشی سے ٹیکس ادا کریں گے اور ٹیکس نیٹ میں نمایاں اضافہ ہوگا،تاجر رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ماضی کی طرح بعض بیوروکریٹک عناصر اس اسکیم کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسکیم کو قانونی تحفظ دیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی افسر یا ادارہ اسے تبدیل نہ کر سکے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بعض محکموں میں بدعنوانی کی وجہ سے تاجروں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا رہا ہے، جبکہ اصل مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی گئی۔تاجر رہنماؤں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مارکیٹوں کی جلد بندش اور کاروباری اوقات کار پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ گرمیوں کے موسم میں کاروبار کا بڑا حصہ شام اور رات کے اوقات میں ہوتا ہے، لہٰذا تاجروں کو آزادانہ طور پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ صنعتی شعبے کے مسائل کے حل کے لیے مستقل مشاورتی کمیٹی قائم کی جائے،بند ہوتی صنعتوں کو بحال کرنے کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے۔زراعت کے شعبے میں کسانوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے پالیسی اصلاحات کی جائیں۔بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔”تاجر، کسان اور صنعتکار معیشت کے بنیادی ستون ہیں”مقررین نے کہا کہ ملکی معیشت تین بنیادی ستونوں پر کھڑی ہے، اگر یہ تینوں طبقے مضبوط اور خوشحال ہوں گے تو قومی معیشت بھی مستحکم ہوگی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور حکومتی محصولات میں اضافہ ہوگا۔تاجر رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ مختلف سرکاری اداروں میں موجود بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کرپشن پر قابو پا لیا جائے اور کاروبار دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں تو پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے۔ تاجر راہنماؤں نے نئی آسان ٹیکس اسکیم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے گی اور مستقبل میں بھی کاروباری برادری کو اعتماد میں لے کر معاشی پالیسیاں مرتب کرے گی۔

مزید خبریں